• News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • ایران اور عمان ہرمز معاہدے کے قریب، امریکہ پر نظریں،کشیدگی ختم ہونے کے امکان

ایران اور عمان ہرمز معاہدے کے قریب، امریکہ پر نظریں،کشیدگی ختم ہونے کے امکان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: | Last Updated: Aug 06, 2026 IST

ایران اور عمان ہرمز معاہدے کے قریب، امریکہ پر نظریں،کشیدگی ختم ہونے کے امکان
ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق ایک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔  ایران نے کہا ہے کہ معاہدہ صرف اس کی کوششوں سے نہیں بلکہ امریکہ کے رویے اور تعاون سے بھی کامیاب ہوگا۔امریکہ کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے ہر وقت کھلی رہنی چاہیے۔

معاہدے پر کیا پیش رفت ہوئی؟

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق، ایران اور عمان نے بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر اتفاق کر لیا ہے اور معاہدے کا مشترکہ بیان بھی آخری مرحلے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تیسرا فریق اس عمل میں رکاوٹ نہ ڈالے تو دونوں ممالک جلد معاہدے کو حتمی شکل دے سکتے ہیں۔

ایران نے امریکہ پر کیا الزام لگایا؟

اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنانے والے عوامل اب بھی موجود ہیں اور اس کی بڑی وجہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی اور ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہی عوامل معاہدے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں خام تیل کی تقریباً 20 فیصد سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے، اس لیے اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں اور سپلائی پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے کے بعد تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا،  حالیہ دنوں میں کچھ کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بدھ کے روز برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 80 ڈالر فی بیرل رہی۔

کیا یہ معاہدہ تنازع ختم کر سکتا ہے؟

رپورٹ کے مطابق، عمان کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کے مسودے کو نافذ کرنے کے لیے ایران کے سپریم لیڈر کی منظوری درکار ہوگی۔ علاقائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ فی الحال آبنائے ہرمز کے تنازع کا عارضی حل ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ پیش رفت اس معاہدے سے جڑی ہوئی ہے جس پر امریکہ اور ایران نے جون میں دستخط کیے تھے، لیکن بعد میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ حملوں کے باعث وہ معاہدہ ختم ہو گیا۔

کیا امریکہ اور ایران کے مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں؟

رپورٹ کے مطابق، اگر یہ معاہدہ مکمل ہو جاتا ہے تو اس سے امریکہ اور ایران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات شروع ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

بحری جہاز کس راستے سے گزریں گے؟

حکام کے مطابق، مجوزہ معاہدے کے تحت بحری جہاز خلیج فارس میں داخل ہوتے وقت ایران کے زیرِ انتظام راستہ استعمال کریں گے، جبکہ باہر نکلتے وقت عمان کے زیرِ انتظام راستے سے گزریں گے۔ اس منصوبے کے تحت سمندری سکیورٹی برقرار رکھنے اور بحری ماحول کے تحفظ کے لیے سروس فیس بھی وصول کی جائے گی۔ امریکہ نے اس تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو اس راستے کے استعمال پر فیس وصول نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے آزاد اور کھلی رہنی چاہیے۔