دہلی کی تیس ہزاری عدالت (Tis Hazari Court) نے معروف دھوکہ باز سکیش چندر شیکھر کو سپریم کورٹ کے جج کا روپ دھار کر اے سی بی کے خصوصی جج کو متاثر کرنے کی کوشش کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اسے بھارتی تعزیراتِ ہند کی دفعات 170، 189 اور 507 کے تحت قصوروار پایا۔
یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب سکیش عدالتی حراست میں تھا۔ استغاثہ کے مطابق، اس نے مبینہ طور پر کانسٹیبل منجیت کے موبائل فون تک رسائی حاصل کی اور اسی فون سے اس اے سی بی خصوصی جج کے سرکاری لینڈ لائن نمبر پر رابطہ کیا جو بدعنوانی کے ایک مقدمے کی سماعت کر رہے تھے۔
فون کال کے دوران سکیش نے پہلے خود کو سپریم کورٹ کے جج کا سیکریٹری بتایا اور بعد میں خود کو سپریم کورٹ کا جج ظاہر کیا۔ الزام ہے کہ اس نے خصوصی جج پر ضمانت دینے اور مقدمے کے عدالتی نتائج کو اپنے حق میں متاثر کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ معاملہ محض ایک غلط شناخت یا عام فون کال تک محدود نہیں تھا، بلکہ عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کی ایک منصوبہ بند اور سوچ سمجھ کر کی گئی کوشش تھی۔
عدالت کے مطابق، سپریم کورٹ کے جج کی نقالی کرنا صرف کسی فرد کو دھوکہ دینے کی کوشش نہیں بلکہ عدالتی ادارے کے اختیار، وقار اور ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش بھی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں اور پورا معاملہ ملزم کے جرم کی جانب واضح طور پر اشارہ کرتا ہے۔
عدالت نے دہلی پولیس کو کانسٹیبل منجیت کے کردار کی دوبارہ جانچ کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ تحقیقات میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ سکیش چندر شیکھر نے عدالتی حراست کے دوران منجیت کے موبائل فون تک کیسے رسائی حاصل کی اور اس مبینہ سازش میں کانسٹیبل کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔