نیپال میں شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ تبت کی جانب سے آنے والے سیلابی پانی نے شمالی نیپال کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کئی مقامات پر تیز بہاؤ میں کاروں اور ٹرکوں کے بہہ جانے کے مناظر بھی سامنے آئے ہیں۔حکام کے مطابق شمالی نیپال میں دریائے بھوٹے کوشی کی سطح میں صبح تقریباً 9 بجے اچانک اضافہ ہوا۔ سیلابی پانی نے ضلع رسووا کے تیمور اور سیابروبیسی سمیت قریبی علاقوں میں شدید نقصان پہنچایا۔ صورتحال کے پیش نظر حکام نے دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں کو چوکس رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
سیلاب کے باعث رسووا گڑھی کے علاقے میں چین کے تبت میں کیلاش مانسروور جانے والے تقریباً 400 یاتریوں سے رابطہ منقطع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیلاب نے نیپال-چین سرحد کے قریب کئی علاقوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ سڑکوں اور دیگر اہم تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی نے رسووا، نوواکوٹ، دھاڈنگ، چتوان اور گورکھا کے دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔
105 بھارتی سیاح بھی لاپتہ
نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق، رسووا کے سیلاب سے کم از کم 105 بھارتی سیاحوں سمیت 291 غیر ملکی شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔
بہار میں بھی ہائی الرٹ
نیپال میں سیلاب کی صورتحال کے بعد بھارتی ریاست بہار میں بھی کئی اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ بٹیا، موتیہاری، گوپال گنج، سارن، مظفرپور، ویشالی، سیتامڑھی اور شیوہر سمیت حساس علاقوں میں انتظامیہ کو مسلسل صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے کے خدشے کے پیش نظر مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور ضرورت پڑنے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔ بہار کے چیف سیکریٹری اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
نیپال میں سیلاب کی شدت نے ایک بار پھر خطے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس وقت سب سے بڑی ترجیح لاپتہ افراد کی تلاش، متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچانا اور سرحدی علاقوں میں امدادی کارروائیوں کو تیز کرنا ہے۔