گروگرام میں ہر سال مانسون کے دوران شدید بارش کے بعد سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں پانی بھر جاتا ہے۔ اس سال بھی کئی دن گزرنے کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں پانی جمع ہے اور ٹریفک کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گزشتہ آٹھ سال میں شہر کے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تقریباً 503 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود مسئلہ ہر سال دوبارہ سامنے آ جاتا ہے۔
گروگرام میں پانی کیوں بھرتا ہے؟
گروگرام میں بارش کا پانی صحیح طریقے سے نہ نکلنے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں نکاسی آب کے راستوں پر غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات بھی شامل ہیں۔ شہر کے کئی علاقوں میں دکانیں اور دیگر تعمیرات نکاسی آب کے راستوں کے قریب یا ان کے اوپر بنائی گئی ہیں۔ اس کی وجہ سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور شدید بارش کے وقت پانی سڑکوں پر جمع ہونے لگتا ہے۔ نئے علاقوں میں بھی یہی مسئلہ دیکھا گیا ہے۔ بعض رہائشیوں نے نکاسی آب کے راستوں کے اوپر گھر کے ریمپ یا چھوٹے باغ بنا رکھے ہیں، جس سے پانی کے گزرنے کی جگہ کم ہو جاتی ہے۔
کئی سرکاری ادارے، لیکن تال میل کی کمی
گروگرام میں شہر کی ترقی اور بنیادی سہولتوں کی ذمہ داری ایک ہی ادارے کے پاس نہیں ہے۔ مختلف کاموں کی ذمہ داری گروگرام میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی، میونسپل کارپوریشن آف گروگرام، ہریانہ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا سمیت مختلف اداروں کے پاس ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان اداروں کے درمیان مناسب تال میل نہ ہونے کی وجہ سے نکاسی آب کے منصوبوں پر مؤثر طریقے سے عمل نہیں ہو پاتا۔
بارش کے بعد سڑکوں پر پانی اور ٹریفک جام
پیر کو ہونے والی شدید بارش کے بعد گروگرام کی کئی اہم سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا۔ اس کے باعث کئی علاقوں میں ٹریفک کی رفتار متاثر ہوئی اور لوگوں کو سفر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بارش اور پانی جمع ہونے کی وجہ سے دفتر جانے والے ملازمین اور اسکول جانے والے بچوں کے لیے بھی مشکلات بڑھ گئیں۔
انتظامیہ نے غیر ضروری سفر سے بچنے کی اپیل کی
گروگرام کے ڈپٹی کمشنر اتم سنگھ نے سرکاری اور نجی اداروں کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ انتظامیہ نے اداروں سے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے جہاں ممکن ہو ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنے کا انتظام کیا جائے۔ اسکولز کو بھی آن لائن کلاسز کا انتظام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ممکن ہو تو گھروں میں رہیں۔
ہر سال ایک ہی مسئلہ
گروگرام میں بارش کے بعد پانی بھرنے کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ ہر سال مانسون کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ نکاسی آب کو بہتر بنانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں، لیکن غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات، ناقص منصوبہ بندی اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان تال میل کی کمی کی وجہ سے مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اتنی بڑی رقم خرچ ہونے کے باوجود گروگرام کو ہر مانسون میں پانی بھرنے کے اسی مسئلے کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے۔