Wednesday, August 26, 2026 | 11 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • مہاراشٹر کے اسکولوں کی حالت پر سی جے پی کا بڑا مطالبہ، کمیٹی بنانے کی اپیل

مہاراشٹر کے اسکولوں کی حالت پر سی جے پی کا بڑا مطالبہ، کمیٹی بنانے کی اپیل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 26, 2026 IST

مہاراشٹر کے اسکولوں کی حالت پر سی جے پی کا بڑا مطالبہ، کمیٹی بنانے کی اپیل
کاکروچ جنتا پارٹی یعنی سی جے پی کے ایک وفد نے مہاراشٹر کے وزیر تعلیم دادا جی بھوسے (Dadaji Bhuse) سے ملاقات کرکے سرکاری اسکولوں کی حالت، بنیادی ڈھانچے کی کمی اور طلبہ کو درپیش سہولیات کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری اسکولوں کے مسائل کو باقاعدہ طور پر حکومت تک پہنچانے اور ان کے حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
 
ملاقات کے دوران سی جے پی کے نمائندوں نے کہا کہ ریاست کے مختلف سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو کئی بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ ان میں اسکولوں کی عمارت، بنیادی ڈھانچہ، طلبہ کے لیے ضروری سہولیات اور تعلیمی ماحول سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان مسائل کو صرف مقامی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے حکومت کے سامنے منظم انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
 
 
سی جے پی  کے ممبئی کوآرڈینیٹر Pranay Ahire نے بتایا کہ وفد کی وزیر تعلیم سے سب سے اہم درخواست ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تھی۔ ان کے مطابق یہ کمیٹی اسکولوں سے متعلق شکایات اور مسائل کو حکومت تک پہنچانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی۔Pranay Ahire نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے لیے بنیادی سہولیات کو یقینی بنانا اور انہیں مفت اور معیاری تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام مسائل فوری طور پر حل نہیں بھی ہوسکتے، تب بھی ان مسائل کو حکومت کی توجہ میں لانا ضروری ہے۔
 
سرکاری اسکولوں کی حالت پر سوال
 
CJP کے نمائندے نے سرکاری اسکولوں کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو آزاد ہوئے تقریباً 80 سال گزر چکے ہیں، لیکن آج بھی کئی سرکاری اسکول بنیادی سہولیات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسی صورتحال کو سامنے لانے کے لیے CJP نے اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے مقصد سے ملک گیر مہم شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کے کارکن مختلف علاقوں میں اسکولوں کا جائزہ لے کر وہاں موجود مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقصد کسی حکومت یا ادارے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ اسکولوں میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرکے ان کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔
 
وزیر تعلیم کا مثبت ردعمل
 
CJP کے مطابق، وزیر تعلیم دادا جی بھوسے نے وفد کی درخواست پر مثبت ردعمل ظاہر کیا اور مسائل پر بات چیت کے لیے ایک نمائندہ مقرر کیا ہے۔ اب تنظیم اس نمائندے کے ساتھ رابطے میں رہ کر سرکاری اسکولوں سے متعلق مسائل اور طلبہ کی ضروریات کو حکومت تک پہنچائے گی۔ CJP کا کہنا ہے کہ کمیٹی یا مقرر کردہ نمائندے کے ذریعے اسکولوں کی صورتحال پر مسلسل بات چیت سے حکومت اور زمینی سطح پر موجود مسائل کے درمیان فاصلے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت کی جانب سے ان مطالبات پر عملی طور پر کتنی پیش رفت ہوتی ہے اور سرکاری اسکولوں کی بنیادی سہولیات میں بہتری کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔