نیپال میں شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ تبت کی جانب سے آنے والے تیز بہاؤ نے کئی علاقوں میں پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ سیلابی پانی شہروں اور دیہاتوں تک پہنچ گیا۔ کئی مقامات پر گاڑیوں اور ٹرکوں کو پانی کے تیز بہاؤ میں بہتے ہوئے دیکھا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، اب تک 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 500 افراد لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں 105 ہندوستانی شہری بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔
کیلاش مانسروور جانے والے 400 یاتریوں سے رابطہ منقطع
دریں اثنا، دی کھٹمنڈو پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق تبت میں کیلاش مانسروور یاترا کے لیے جانے والے تقریباً 400 یاتریوں سے رسواگدھی کے مقام پر رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ کھٹمنڈو میں قائم ٹچ کیلاش ٹریولز اینڈ ٹورز کے منیجنگ ڈائریکٹر باشو کمار ادھیکاری کے مطابق تقریباً 390 یاتری، جن میں 93 نیپالی بھی شامل ہیں، بدھ کو سرحد عبور کرنے والے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چند افراد کے علاوہ زیادہ تر یاتریوں سے دوپہر تقریباً 3 بجے کے بعد رابطہ نہیں ہو سکا۔ نیپال کی ٹریکنگ ایجنسیز ایسوسی ایشن کے صدر ساگر پانڈے نے کہا کہ یاتریوں سے رابطہ کرنے اور ان کی موجودہ صورتحال معلوم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
بھوٹے کوشی اور ترشولی دریا میں طغیانی
حکام کے مطابق صبح تقریباً 9 بجے شمالی نیپال میں دریائے بھوٹے کوشی میں اچانک سیلاب آگیا۔ تبت کی جانب سے آنے والے پانی کے تیز بہاؤ نے رسووا ضلع کے تیمور اور قریبی سیافروبیسی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔رسووا ضلع تبت کی سرحد سے تقریباً 125 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی نے رسووا، نوواکوٹ، دھاڈنگ، چتوان اور گورکھا کے دریائی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو اگلے حکم تک چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔ دریائے ترشولی کے طاس سے متصل کئی اضلاع بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ حکام نے لوگوں سے محفوظ مقامات پر رہنے اور دریا کے قریب جانے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔
چین میں بھی لینڈ سلائیڈنگ سے نقصان
سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے اثرات سرحدی علاقوں تک بھی پہنچے ہیں۔ ژنہوا نیوز کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے جنوب مغربی چین کے ژی زانگ علاقے میں گیئرونگ سرحدی بندرگاہ کے قریب لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے نقصان کے بعد لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نیپال میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم متعدد علاقوں میں سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچنے کے باعث ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سب سے بڑی تشویش لاپتہ افراد، خصوصاً کیلاش مانسروور جانے والے یاتریوں کی خیریت کے حوالے سے ہے۔