عید میلاد النبی ﷺ کے پُرمسرت اور بابرکت موقع پر جموں و کشمیر کی وادی عقیدت و احترام کے رنگ میں رنگی نظر آئی۔ سرینگر کی تاریخی درگاہ حضرت بل میں رات بھر شب خوانی اور خصوصی عبادات کا اہتمام کیا گیا، جہاں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوں نے نمازِ عشاء ادا کی اور محفلِ درود و نعت میں شرکت کی۔ نمازِ فجر کے بعد جب رسولِ اکرم ﷺ کے موئے مبارک کی زیارت کرائی گئی تو درگاہ حضرت بل کا ماحول انتہائی روح پرور اور ایمان افروز ہوگیا۔ زیارت کے موقع پر بڑی تعداد میں موجود عقیدت مندوں کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور لوگوں نے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر زائرین نے ملک میں امن و سلامتی، جموں و کشمیر کی ترقی، عالم اسلام اور پوری دنیا میں بھائی چارے، خوشحالی اور امن کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔
عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ کی درگاہ حضرت بل میں حاضری
عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی درگاہ حضرت بل پہنچ کر نمازِ ظہر ادا کی اور عقیدت کا اظہار کیا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے درگاہ میں زائرین کے لیے کیے گئے انتظامات کا جائزہ بھی لیا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ عقیدت مندوں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو اور ان کی سہولت، سلامتی اور دیگر ضروری انتظامات کا مکمل خیال رکھا جائے۔ دونوں رہنماؤں نے جموں و کشمیر میں امن، خوشحالی، بھائی چارے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے دعا کی۔
سرینگر میں بڑے میلاد جلوس
عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں سرینگر سمیت جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں میلاد کے جلوس بھی نکالے گئے۔ سرینگر میں درگاہ حضرت بل، شہرِ خاص اور سول لائنز کے علاقوں سے بڑے جلوس برآمد ہوئے، جن میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ جلوسوں میں بڑی تعداد میں بچے بھی شریک ہوئے اور لوگوں نے نعتیں پڑھتے ہوئے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں میلاد کے جلوسوں کے باعث ایک جانب روحانی اور مذہبی ماحول نظر آیا تو دوسری جانب انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سیکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔ پولیس اہلکاروں کو اہم مقامات پر تعینات کیا گیا، جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے بھی انتظامات کیے گئے۔ مجموعی طور پر عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر سرینگر میں عقیدت، عبادت اور امن کا پیغام نمایاں رہا۔