Wednesday, August 26, 2026 | 11 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • ہیلتھ اور ہم: جسم کے درد اور جوڑوں کی درد کو نظر انداز نہ کریں، ماہر ڈاکٹر نے بتائی اہم باتیں

ہیلتھ اور ہم: جسم کے درد اور جوڑوں کی درد کو نظر انداز نہ کریں، ماہر ڈاکٹر نے بتائی اہم باتیں

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 26, 2026 IST

ہیلتھ اور ہم: جسم کے درد اور جوڑوں کی درد کو نظر انداز نہ کریں، ماہر ڈاکٹر نے بتائی اہم باتیں
روزمرہ زندگی میں جسم کے مختلف حصوں میں درد اور خاص طور پر صبح کے وقت جوڑوں میں اکڑن کو اکثر لوگ معمولی تھکن، زیادہ کام یا غلط انداز میں بیٹھنے کا نتیجہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن ہر درد صرف تھکن کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ کسی بیماری کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
 
نیوز پروگرام "ہیلتھ اور ہم" کے خصوصی پروگرام میں جیم کیئر پولومی ہسپتال، سکندرآباد، حیدرآباد کے کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک سرجن اور ریوماٹولوجسٹ ڈاکٹر سائی ہری پریم نے جسمانی درد، آرتھرائٹس اور ہڈیوں کی صحت سے متعلق اہم سوالات کے جواب دیے۔
 
درد کب معمولی اور کب تشویش کی بات؟
 
ماہر ڈاکٹر کے مطابق ہلکا درد جو آرام یا چند دنوں میں بہتر ہو جائے، عموماً زیادہ جسمانی مشقت یا معمولی کھنچاؤ کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر درد مسلسل دو ہفتے یا اس سے زیادہ برقرار رہے، جوڑوں میں سوجن یا سرخی ہو، بخار آئے یا رات کے وقت درد بڑھ جائے تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
 
بغیر چوٹ کے جوڑوں میں درد کیوں ہوتا ہے؟
 
گھٹنے، کندھے، کمر یا گردن میں بغیر کسی واضح چوٹ کے درد کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ غیر فعال طرز زندگی، پٹھوں کی کمزوری، وٹامن ڈی یا دیگر غذائی اجزا کی کمی اور غلط بیٹھنے کا انداز اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
 
صبح کی اکڑن کس بیماری کی علامت ہو سکتی ہے؟
 
صبح اٹھنے کے بعد اگر جوڑوں میں طویل عرصے تک اکڑن اور سوجن برقرار رہے تو یہ سوزش والی آرتھرائٹس، جیسے ریوماٹائڈ آرتھرائٹس، کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس مختصر مدت کی اکڑن بعض اوقات آسٹیو آرتھرائٹس یا پٹھوں کے کھنچاؤ سے بھی وابستہ ہو سکتی ہے۔
 
آسٹیو آرتھرائٹس اور ریوماٹائڈ آرتھرائٹس میں فرق
 
آسٹیو آرتھرائٹس میں جوڑوں کی ساخت میں وقت کے ساتھ تبدیلیاں آتی ہیں اور گھٹنے، کولہے جیسے وزن برداشت کرنے والے جوڑ زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب ریوماٹائڈ آرتھرائٹس ایک خودکار مدافعتی بیماری ہے، جو مختلف عمروں میں ظاہر ہو سکتی ہے اور اکثر ہاتھوں اور کلائی کے جوڑوں کو دونوں جانب متاثر کرتی ہے۔
 
اگر دونوں ہاتھوں، پیروں یا متعدد جوڑوں میں بیک وقت درد اور سوجن ہو تو ریوماٹولوجسٹ سے مشورہ لینا اہم ہے۔
 
نوجوانوں میں گردن اور کمر کا درد کیوں بڑھ رہا ہے؟
 
موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر اسکرینز کا طویل استعمال، مسلسل جھک کر بیٹھنا اور جسمانی سرگرمی کی کمی نوجوانوں میں گردن اور کمر کے مسائل کو بڑھا سکتی ہے۔ غلط پوسچر کی وجہ سے گردن اور کمر کے پٹھوں پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے۔
 
وزن اور جوڑوں کی صحت
 
اضافی وزن گھٹنوں سمیت جسم کے کئی جوڑوں پر دباؤ بڑھاتا ہے اور آسٹیو آرتھرائٹس کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس لیے وزن کو صحت مند حد میں رکھنا جوڑوں کی حفاظت کے لیے اہم ہے۔
 
صرف پیدل چلنا کافی نہیں۔ واک کے ساتھ مناسب طاقت کی ورزشیں بھی پٹھوں کو مضبوط بنانے اور جوڑوں کو سہارا دینے میں مدد کر سکتی ہیں۔
 
درد میں آرام کریں یا ورزش؟
 
شدید درد یا سوجن کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق مختصر آرام ضروری ہو سکتا ہے، لیکن طویل عرصے تک مکمل بے حرکتی جوڑوں کی اکڑن بڑھا سکتی ہے۔ مناسب اور کم اثر والی ورزشیں، فزیوتھراپی اور جسمانی سرگرمی اکثر جوڑوں کی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتی ہیں۔
 
جوڑوں سے آواز آنا
 
اگر جوڑوں سے آواز آئے لیکن ساتھ درد یا سوجن نہ ہو تو یہ ہمیشہ کسی بیماری کی علامت نہیں ہوتی۔ تاہم آواز کے ساتھ مسلسل درد، سوجن یا حرکت میں کمی ہو تو ڈاکٹر سے معائنہ کرانا چاہیے۔
 
خواتین میں ہڈیوں کی صحت
 
عمر بڑھنے اور خاص طور پر مینوپاز کے بعد خواتین میں ہڈیوں کی کمزوری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ مناسب کیلشیم، وٹامن ڈی، متوازن غذا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی ہڈیوں کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
 
ضرورت کے مطابق ڈاکٹر بون ڈینسٹی ٹیسٹ یا ڈی ای ایکس اے اسکین کا مشورہ دے سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کو جن میں آسٹیوپوروسس یا فریکچر کا خطرہ زیادہ ہو۔
 
درد کی دوا خود سے مسلسل نہ لیں
 
ماہرین کے مطابق درد کی ادویات کا طویل عرصے تک خود سے استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بعض ادویات معدے، گردوں اور بلڈ پریشر پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ اس لیے مسلسل درد کی صورت میں صرف پین کِلر لینے کے بجائے اس کی اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔
 
کیا گھٹنے کی سرجری ہی آخری حل ہے؟
 
ہر مریض کے لیے سرجری ضروری نہیں ہوتی۔ بیماری کی نوعیت اور شدت کے مطابق وزن میں کمی، ورزش، فزیوتھراپی، ادویات اور بعض دیگر علاج سے علامات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری کا فیصلہ مریض کی حالت اور ڈاکٹر کے مشورے کے بعد کیا جاتا ہے۔
 
ڈاکٹر کا اہم مشورہ
 
جسم کے درد یا جوڑوں کی اکڑن کو مسلسل نظر انداز نہ کریں۔ اگر درد برقرار رہے، جوڑوں میں سوجن ہو، صبح کی اکڑن طویل ہو یا روزمرہ کام متاثر ہونے لگیں تو آرتھوپیڈک سرجن یا ریوماٹولوجسٹ سے مشورہ لینا بہتر ہے۔ صحت کا اصول سادہ ہے: درد کی وجہ جانیں، خود سے علاج کے بجائے بروقت ماہر سے مشورہ کریں۔