Wednesday, August 26, 2026 | 11 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • شاعرِ رسولﷺکا تاریخی جواب: میرا باپ، میرا دادا اور میری آبرو... محمد ﷺ کی عزت پر قربان

شاعرِ رسولﷺکا تاریخی جواب: میرا باپ، میرا دادا اور میری آبرو... محمد ﷺ کی عزت پر قربان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 26, 2026 IST

شاعرِ رسولﷺکا تاریخی جواب: میرا باپ، میرا دادا اور میری آبرو... محمد ﷺ کی عزت پر قربان
آج سے 1400 سال قبل جب قریش کے بعض شعرا (خصوصاً ابو سفیان بن حارث، جو بعد میں دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے تھے) نے سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں ہجویہ اشعار کہے، تو نبی کریم ﷺ نے اپنے شاعرِ خاص حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو منبر پر بیٹھ کر اسلام اور ناموسِ رسالت کا دفاع کرنے کا حکم دیا۔
 
صحیح البخاری (3213) اور صحیح مسلم (2486) کے مطابق، حضور اکرم ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دعا دیتے ہوئے فرمایا:
 
"أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ"
 
(ترجمہ: ان کی طرف سے جواب دو، اے اللہ! روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعہ حسان کی مدد فرما۔)
 
بارگاہِ رسالت میں تاریخ ساز جواب:
 
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے ایمانی جذبے اور فصاحت و بلاغت سے دشمنوں کے اعتراضات کو نہ صرف ناکارہ بنایا بلکہ ایسے عالمگیر اشعار تخلیق کیے جو آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان کا مشہور ترین کلام بارگاہِ رسالت کی بے مثال عظمت کا مظہر ہے:
 
وَأَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِي -- وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
 
خُلِقْتَ مُبَرَّءً مِنْ كُلِّ عَيْبٍ -- كَأَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ
 
(ترجمہ: آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا، اور آپ سے زیادہ حسین کسی عورت نے نہیں جنا۔ آپ ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے، گویا آپ اپنی مرضی کے مطابق ڈھالے گئے ہیں۔)
 
(ماخذ: دیوان حسان بن ثابت)
 
صحیح مسلم (2486) میں محفوظ ان کے دیگر تاریخی ابیات میں وہ واضح الفاظ میں فرماتے ہیں:
 
"أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ"
 
(ان کا جواب دو، اے اللہ! روح القدس (جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعہ حسان کی مدد فرما۔)
 
"فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي ... لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ" (بے شک میرا باپ، میرا دادا اور میری آبرو... محمد ﷺ کی آبرو پر قربان ہیں)
 
[حوالہ: صحیح مسلم: 2486 (کتاب فضائل الصحابة)]
 
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ان جذبات، تاریخی قصیدے اور دورِ جاہلیت کے مظالم کے مقابلے میں اسلام کی روشنی کو اس منظوم صورت میں بیان کیا گیا ہے:
 
میرے آقا میرے مولا، میرے آقا میرے مولا  
 
محمد رسول اللہ، محمد رسول اللہ  
 
جہاں میں‌ ان سا چہرہ ہے نہ ہے خندہ جبیں کوئی  
 
ابھی تک جن سکیں نہ عورتیں ان سا حسین کوئی  
 
نہیں رکھی ہے قدرت نے میرے آقا کمی تجھ میں  
 
جو چاہا آپ نے مولا وہ رکھا ہے سبھی تجھ میں  
 
میرے آقا میرے مولا، میرے آقا میرے مولا  
 
محمد رسول اللہ، محمد رسول اللہ  
 
بدی کا دور تھا ہر سو جہالت کی گھٹائیں تھیں  
 
گناہ و جرم سے چاروں طرف پھیلی ہوائیں تھیں  
 
خدا کے حکم سے نا آشنا مکے کی بستی تھی  
 
گناہ و جرم سے چاروں طرف وحشت برستی تھی  
 
خدا کے دین کو بچوں کا ایک کھیل سمجھتے تھے  
 
خدا کو چھوڑ کر ہر چیز کو معبود کہتے تھے  
 
وہ اپنے ہاتھ ہی سے پتھروں کے بُت بناتے تھے  
 
انہی کے سامنے جھکتے انہی کی حمد گاتے تھے  
 
کسی کا نام "عُزی" تھا کسی کو "لات" کہتے تھے  
 
"ہُبل" نامی بڑے بُت کو بتوں کا باپ کہتے تھے  
 
اگر لڑکی کی پیدائش کا ذکر گھر میں سن لیتے  
 
تو اُس معصوم کو زندہ زمیں میں دفن کر دیتے  
 
پر جو بھی بُرائی تھی سب ان میں‌ پائی جاتی تھی  
 
نہ تھی شرم و حیا آنکھوں‌ میں گھر گھر بے حیائی تھی  
 
مگر اللہ نے ان پر جب اپنا رحم فرمایا  
 
تو عبداللہ کے گھر میں خدا کا لاڈلا آیا  
 
عرب کے لوگ اس بچے کا جب اعزاز کرتے تھے  
 
تو عبدالمطلب قسمت پر اپنی ناز کرتے تھے  
 
خدا کے دین کا پھر بول بالا ہونے والا تھا  
 
محمد سے جہاں میں پھر اُجالا ہونے والا تھا  
 
میرے آقا میرے مولا، میرے آقا میرے مولا  
 
محمد رسول اللہ، محمد رسول اللہ  
 
فرشتہ ایک اللہ کی طرف سے ہم میں حاضر ہے  
 
خدا کے حکم سے جبرئیل بھی اک فردِ لشکر ہے  
 
سپہ سالار اور قائد ہمارے ہیں رسول اللہ
 
مقابل ان کے آؤ گے ملے گی ذلتِ کُبریٰ
 
ہمیں فضلِ خدا سے مل چکی ایماں‌ کی دولت ہے
 
ملی دعوت تمہیں پر سر کشی تم سب کی فطرت ہے
 
سنو اے لشکرِ کفار ہے اللہ غنی تم سے
 
لیا تعمیرِ زمیں کا کام ہے اللہ نے ہم سے
 
لڑائی اور مدح و ذم میں بھی ہم کو مہارت ہے  
 
قبیلہ معاذ سے ہر روز لڑنا تر سعادت ہے  
 
زبانی جنگ میں شعر و قوافی خوب کہتے ہیں  
 
لڑائی جب بھی لڑتے ہیں‌ لہو دشمن کے بہتے ہیں  
 
میرے آقا میرے مولا، میرے آقا میرے مولا  
 
محمد رسول اللہ، محمد رسول اللہ  
 
محمد کے تقدس پر زبانیں جو نکالیں گے  
 
خدا کے حکم سے ایسی زبانیں کھینچ ڈالیں گے (ان شاء اللہ)  
 
کہاں رفعت محمد کی کہاں تیری حقیقت ہے  
 
شرارت ہی شرارت بس تیری بے چین فطرت ہے  
 
مذمت کر رہا ہے تُو شرافت کے مسیحا کی  
 
امانت کے دیانت کے صداقت کے مسیحا کی  
 
اگر گستاخِ ناموسِ احمد کر چکے ہو تم  
 
تو اپنی زندگی سے قبل ہی بس مر چکے ہو تم
 
میرا سامانِ جان و تن فدا ان کی رفاقت پر
 
میرے ماں باپ ہو جائیں نثار ان کی محبت پر
 
زبان رکھتا ہوں ایسی جس کو سب تلوار کہتے ہیں
 
میرے اشعار کو اہلِ جہاں ابحار کہتے ہیں
 
میرے آقا میرے مولا، میرے آقا میرے مولا
 
محمد رسول اللہ، محمد رسول اللہ