• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران میں جاری حکومت مخالف احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی اطلاعات پر ٹرمپ کا سخت رد عمل

ایران میں جاری حکومت مخالف احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی اطلاعات پر ٹرمپ کا سخت رد عمل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jan 10, 2026 IST

ایران میں جاری حکومت مخالف احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی اطلاعات پر ٹرمپ کا سخت رد عمل
ایران میں جاری حکومت مخالف احتجاج کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں کی اطلاعات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کی صورتحال پر نہایت باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کی حکومت اپنے ہی عوام کے خلاف طاقت کا استعمال کرتی ہے ۔اور لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے تو امریکہ سخت کارروائی کرے گا۔ ۔انہوں نے خبردار کیا کہ مظاہرین کے خلاف تشدد ناقابلِ قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
 
ایران  میں جاری شدید احتجاجی مظاہروں کے دوران اب اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کھل کر امریکہ اور اسرائیل کو موجودہ حالات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سخت تنبیہ جاری کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ  کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں مداخلت کے اشارے دے چکے ہیں، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ 
 
 
یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب بین الاقوامی ماحول پہلے ہی کشیدہ ہے۔ جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​کے بعد صورتحال مزید حساس ہوگئی، جس میں امریکا نے ایرانی جوہری مقامات پر بمباری کی۔ 2 جنوری 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایرانی سکیورٹی فورسز نے پرامن مظاہرین کو ہلاک کیا تو امریکہ مداخلت کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پوری طرح تیار ہے۔ ٹرمپ نے 4 جنوری کو یہ وارننگ ایک بار پھر دہرائی۔ اس کے جواب میں ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل پر بدامنی کو ہوا دینے کا الزام لگایا اور کہا کہ ایران کی مسلح افواج چوکس ہیں۔
 
مظاہروں کو کئی سرکردہ امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں کی حمایت
 
سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سڑکوں پر نکلنے والے ایرانیوں کو مبارکباد دی اور یہاں تک کہا کہ موساد کا ہر ایجنٹ ان کے ساتھ ہے۔امریکی اور اسرائیلی حکومت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، خاص طور پر فارسی میں، مظاہروں کی حمایت میں کافی سرگرم رہے ہیں۔ اس طرح کی غیر ملکی شرکت کچھ مظاہرین کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔ لیکن اس سے حکومت کے اس دعوے کو بھی تقویت ملتی ہے کہ مظاہروں کو بیرونی طاقتوں کے ذریعے منظم کیا جا رہا ہے۔