Tuesday, September 08, 2026 | 24 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • بی آر ایس کے دوارکان قانون ساز کونسل ایوان سےمعطل، احاطہ اسمبلی میں ہنگامہ

بی آر ایس کے دوارکان قانون ساز کونسل ایوان سےمعطل، احاطہ اسمبلی میں ہنگامہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Sep 08, 2026 IST

  بی آر ایس   کے دوارکان قانون ساز کونسل ایوان سےمعطل، احاطہ اسمبلی میں ہنگامہ
تلنگانہ اسمبلی اجلاس دوسرے دن بھی ہنگامہ خیز رہا۔ ایوان کے اندر اور باہر بی آر ایس، کانگریس نے احتجاج کیا۔ اسمبلی میں بی آر ایس ایم ایل سیز کی گرفتاری اور دیگر امور کو لیکر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ اس دوران وزرا نے کئی اہم امور پر اپنا موقف پیش کیا۔  طویل مباحث کےدوران بھارت راشٹر سمیتی (BRS) کے دو کونسل ارکان (MLCs) تاتا مادھو اور نوین کمار ریڈی کو معطل کر دیا گیا ہے۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے چیئرمین گُتہ سکھیندر ریڈی نے یہ سخت کاروائی کی ہے۔ اسی دوران بی آر ایس ارکان قانون ساز نے کونسل  چیئر مین  پوڈیم کےقریب احتجاج کیا۔ او اسکےبعد، کونسل میڈیا پوائنٹ پر بی آرایس کارکنوں کو میڈیا سے بات کرنے نہیں دیا گیا۔ کچھ دیر کےلئےمیڈیا پوائنٹ پرکشیدگی دیکھی گئی۔ احتجاجی ارکان کو پولیس نےحراست میں لیکر دوسرے مقام پر منتقل کر دیا ۔

اسمبلی میں قرار داد منظور 

تلنگانہ قانون ساز اسمبلی نے منگل کو ایک رسمی قرارداد منظور کی جس میں بی آر ایس قانون ساز کونسل کے ارکان  تاتا مدھوسودھن اور این نوین کمار ریڈی نے 7 ستمبر کو گیٹ نمبر 3 کے قریب اسمبلی اسپیکر گڈم پرساد کمار کے خلاف مبینہ طور پر 'توہین آمیز اور غیر پارلیمانی ریمارکس' کرنے کی مذمت کی۔صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر دامودر راجہ نرسمہا کی طرف سے پیش کردہ قرارداد میں کونسل کے ارکان کے طرز عمل کو غیر مناسب اور اسپیکر گڈم پرساد کمار اور ایوان کے وقار، آئینی حیثیت اور مراعات کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔قرار داد میں واضح طور پر خواتین کے قریب اپنی ٹی شرٹس کو ہٹانے پر بھی واضح طور پر مذمت کی گئی، اس عمل کو انتہائی قابل اعتراض اور وہاں موجود خواتین کی عزت کو مجروح کرنے کے مترادف قرار دیا۔

ایوان کی قرارداد کے اہم مطالبات اور ہدایات

1. اپوزیشن لیڈر سے معافی کا مطالبہ: اسمبلی نے فیصلہ کیا کہ BRS کے صدر اور قائد حزب اختلاف کے چندر شیکھر راؤ (KCR) کو اپنی پارٹی کے ارکان کے طرز عمل کی پوری ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور ایوان کی ادارہ جاتی سالمیت اور سجاوٹ کو بحال کرنے کے لیے اسپیکر سے غیر مشروط معافی مانگنا چاہیے۔
 
2. قانون ساز کونسل کو ارسال کیا گیا: چونکہ ٹاٹا مدھوسدھن اور این نوین کمار ریڈی دونوں تلنگانہ قانون ساز کونسل کے ممبران ہیں، اس لیے اسمبلی نے قرارداد کی ایک کاپی، استحقاق کی خلاف ورزی کے نوٹس اور معاون ثبوت قانون ساز کونسل کے چیئرمین گٹھا سکھیندر ریڈی کو آئینی قواعد اور کونسل کے استحقاق کے تحت مناسب کارروائی کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
 
3. چیئر کے اختیار کی توثیق: قرارداد نے اعلان کیا کہ کوئی سیاسی اختلاف یا ذاتی شکایت پریزائیڈنگ آفیسر کے اختیار کو کم کرنے یا منظم قانون سازی کی کارروائی میں خلل ڈالنے والے اقدامات کا جواز نہیں بن سکتی۔

 مجلس نے بھی توہین کرنے پر کی مذمت 

تلنگانہ اسمبلی میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے اسپیکر گڈم پرساد کمار کی توہین کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور بی آر ایس (BRS) رہنماؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اکبر الدین اویسی نے بی آر ایس قائدین کی جانب سے اسپیکر کے خلاف مبینہ نازیبا ریمارکس کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "اسپیکر کی توہین کسی بھی صورت میں ناقابل معافی ہے"۔اکبر الدین اویسی نے اسپیکر گڈم پرساد کمار سے پرزور مطالبہ کیا کہ ایوان کے وقار کو مجروح کرنے والے ارکان کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے۔ اویسی نے اسپیکر سے بی آر ایس کے سرکردہ رہنماؤں  کو  ایوان کی توہین اور کاروائی میں خلل ڈالنے پر اسمبلی سے معطل (Suspend) کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسمبلی کی ایک طے شدہ روایت اور وقار ہوتا ہے، اور اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر کی کرسی کو نشانہ بنانا اور غیر پارلیمانی رویہ اختیار کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔اس سے قبل مجلس کے دیگر ارکانِ اسمبلی (جیسے احمد بن عبداللہ بلالا) نے بھی اس معاملے پر اپوزیشن کو گھیرا اور کہا کہ ایسے اقدامات سے ایوان میں غلط مثال قائم ہوگی، لہذا ذمہ داروں کو بخشا نہیں جانا چاہئے۔

اسمبلی اسپیکر کی تو ہیں کا الزام 

 دونوں بی آر ایس رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر گدم پرساد کمار کے خلاف انتہائی نامناسب اور توہین آمیز ریمارکس کیے تھے۔  اسمبلی اسپیکر  گڈم  پر ساد کمار  پر  نامناسب تبصرہ کرنے کے معاملے میں گرفتار کرلیا ہے۔ بعد میں انہیں نارائن گوڑا پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ پولیس حیدرآباد میں ایم ایل سی کی رہائش گاہ پر گئی، انہیں نوٹس جاری کیا اور اپنی تحویل میں لے لیا۔پولیس نے کہا کہ تاتا مادھو کے خلاف ایس سی اور ایس ٹی مظالم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس دوران نوین کمار ریڈی کو ،کوکاپیٹ میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔ سیف آباد پولیس اسٹیشن میں بی آر ایس کے دو ایم ایل سی کے خلاف ایس سی اور ایس ٹی مظالم ایکٹ  کے ساتھ سیکشن 352 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس دوران پولیس نے بی آر ایس کے دونوں ایم ایل سیز کو میڈیکل ٹسٹ کیلئے روانہ کردیاگیا۔

 عدالت نے حراست کی درخواست کو کیا مسترد

اسمبلی کے قریب ہونے والی جھڑپ کے سلسلے میں پولیس نے دونوں کو حراست میں لے لیا۔ بعد میں انہیں نامپلی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے اس کیس میں پولیس کی جانب سے دائر ریمانڈ کی درخواست پر فریقین کے دلائل سنے ۔ بعد ازاں اس نے پولیس کی انہیں ریمانڈ پر بھیجنے کی درخواست مسترد کردی۔ تاہم، اس نے دونوں ملزمان کو ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

 بی آر ایس  نے کی کاروائی  کی مذمت 

بی آر ایس قیادت نے اس کاروائی کی شدید مذمت کی ہے اور اسے حکومت کی جانب سے انتقامی سیاست قرار دیتے ہوئے پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج بھی کیا ہے۔ ہریش نے اسپیکر کے خلاف کیے گئے تبصروں پر افسوس کا اظہار کرنے پر تاتا مادھو پر تنقید کی، لیکن انہوں نے سنیتا لکشما ریڈی کی ساڑھی کھینچنے اور سبیتا اندرا ریڈی کی گردن پکڑنے پر بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ ہریش راو نے سوال کیاکہ کیا ان واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی نہیں ہونی چاہیے۔ اس پر اسپیکر نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور ضرورت پڑنے پر کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ خواتین ایم ایل اے ایوان کے ساتھ ساتھ اپنے لیے بھی عزت رکھتی ہیں۔ 

 سی ایم سے معافی مانگنے  کا مطالبہ 

بی آر ایس ایم ایل سیز کی گرفتاری کے معاملہ کو لیکر  پارٹی کے کارگزار صدر کے ٹی آر نے حکومت کے رویہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کے ٹی آر نے کہاکہ ہمارے قائدین کی توہین پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کو معافی مانگنی چائے۔ کے ٹی آر نے کہاکہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اس لئے اس پر اسمبلی میں بحث ہونی چاہئے۔  کے ٹی آر نے الزام عائد کیاکہ حکومت اسمبلی میں عوامی مسائل پر بحث سے بچنے کیلئے اس طرح کے ڈرامے کررہی ہے۔ 

 بی جےپی نے بھی کی مذمت 

بی جے پی قائدین نے اسمبلی اسپیکر گڈم پرساد کمار کے خلاف بی آر ایس ایم ایل سیز کے مبینہ توہین آمیز ریمارکس کی مذمت کی۔بی جے پی قائدین نے کہاکہ اسمبلی اسپیکر کے خلاف نازیبا ریمارکس ٹھیک بات نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہاکہ اسپیکر کا بھی یہ فرض ہے کہ انہیں تمام ارکان کے حقوق کی حفاظت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ جہاں ارکان کو غلط رویہ پر سزا دینی چاہئے وہیں ارکان کے حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے

 بی آر ایس لیڈروں کا سڑکوں پر احتجاج 

بی آر ایس قائدین نے منگل کے روز سڑک پر دھرنا دینے کے بعد گرفتار ایم ایل سی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے ایم ایل سی کے خلاف پولیس کارروائی کی شدید مذمت کی اور حکومت پر زور دیا کہ انہیں بلا تاخیر رہا کیا جائے۔ اس موقع پر بی آر ایس قائدین نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے خلاف نعرے بازی بھی ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت انتخابی وعدوں کی عدم تکمیل پر برہم عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے ایسے اقدامات کررہی ہے۔ 

 کےسی آر کےفارم ہاوس پر حملہ !

 تلنگانہ کے سدی پیٹ ضلع ایراولی میں شدید کشیدگی  دیکھی جارہی ہے۔  کانگریس پارٹی نے سا بق  وزیر اعلی کے سی آر کے فارم ہاؤس کا محاصرہ  کرنےکی کوشش  کی ۔ ایراولی  میں  ڈھول اور نعروں کی گونج سے سیاسی کشیدگی دیکھی گئی۔ کانگریس   لیڈر و گجویل کے سابق  رکن اسمبلی  نرسا ریڈی کی قیادت میں کانگریس کارکن۔ وردراج پور کے راستے کے سی آر کے فارم ہاؤس پہنچے۔ پولیس نے کانگریس کارکنوں کو جانے  سے  روکنے کے لئے  مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کئی۔  جس کے باعث پولیس اور مظاہرین کے درمیان حالات  کشیدہ  د یکھے گئے ۔ کچھ کارکنوں نے رکاوٹوں کوتوڑ کر کے سی آر کے فارم ہاؤس کے قریب جا کر  احتجاج کیا۔ اس موقع پر بی آر ایس  کے ورکنگ صدر کے ٹی آر ۔پارٹی  کے لیڈر  ہریش راو اور  دیگر قائدین  نے  ایروالی کو جانے کی کوشش کی ۔  لیکن پولیس  نے انہیں  روک دیا ۔ کے ٹی  آر  کو   بوائن پلی پولیس اسٹشین کو منتقل کر دیا ۔ جبکہ ہر یش راو  اور پارٹی  کے دیگر ارکان اسمبلی  کو  جوا ہر نگر پولیس  اسٹیشن کو منتقل کردیا ۔   اس موقع  پر کےٹی  آر نے الزام لگایا  کہ کانگریس کے غنڈے اور پولیس مل کر کے سی آر کو مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تلنگانہ کے لوگ اسےا نہیں معاف نہیں کریں گے۔ریاست میں لاء اینڈ آرڈر بہت خراب ہو چکا ہے۔

 کےسی آر پر مبینہ حملےکی سازش 

تلنگانہ میں سیاسی کشیدگی کے درمیان بی آر ایس کے ورکنگ پریزیڈنٹ کے ٹی آر نے کانگریس کارکنوں پر سابق وزیراعلیٰ  کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف مبینہ حملے کی سازش کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ایراولی فارم ہاؤس کے گھیراؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ کانگریس کارکنوں نے افراتفری پیدا کی، جبکہ پولیس نے بی آر ایس قائدین کو ہی نشانہ بنایا۔فارم ہاؤس جاتے ہوئے کے ٹی آر سمیت بی آر ایس قائدین کو گرفتار کرکے بوئن پلی پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔  

 پولیس اسٹیشن کےقریب احتجاج 

سکندرآباد کے بوئن پلی پولیس اسٹیشن میں مبینہ طور پر 100 سے زائد کانگریس کارکنوں کے پہنچنے کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی۔بی آر ایس کے مطابق، کانگریس کارکنوں نے پولیس اسٹیشن میں موجود بی آر ایس کارکنوں پر حملہ کیا اور مبینہ طور پر پتھراؤ بھی کیا۔واقعے کے بعد پولیس اسٹیشن کے اطراف میں حالات کشیدہ ہوگئے۔ پولیس نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔ واضح رہے کہ کل  بی آر ایس کے احتجاج کے بعد سے تلنگانہ بھر میں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے ۔   جواہر نگر پولیس اسٹیشن کے باہر  حالات کچھ دیر کے لئے کشیدہ  ہو گئے۔ جب بی آر ایس لیڈروں  کی  گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں بی آر ایس کارکن پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوگئے۔سابق وزیر ہریش راؤ اور دیگر بی آر ایس ارکانِ اسمبلی کی مبینہ غیر قانونی گرفتاریوں کے خلاف کارکنوں نے پولیس اسٹیشن کے سامنے دھرنا دے دیا۔

اسپیکر نے کرسی صدارت سنبھالنے سے کیا انکار 

حکمراں کانگریس اور اپوزیشن بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے درمیان جاری کشمکش منگل کو اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر گدام پرساد کمار نے دوپہر میں ایوان کی  کاروائی چلانے سے پرہیز کیا۔

 کڈیم سری ہری نے چلائی ایوان کی کاروائی 

اسپیکر نے دن کے لیے ایوان سے الگ ہونے سے پہلے سینئر قانون ساز کڈیم سری ہری کو پینل اسپیکر مقرر کیا۔کانگریس قائدین نے اسپیکر کے خلاف مبینہ توہین آمیز ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے گاندھی بھون اور ریاست بھر میں مظاہرے کئے۔

اسپیکر نے مایوسی کا اظہار کیا

اسمبلی میں میڈیا کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران، اسپیکر پرساد کمار نے مانسون اجلاس کے آغاز کے موقع پر مبینہ غیر پارلیمانی طرز عمل پر گہری مایوسی کا اظہار کیا۔جمہوری نظام کو برقرار رکھنے کے اپنے ارادے پر زور دیتے ہوئے، اسپیکر نے مایوسی کا اظہار کیا کہ بی آر ایس قائدین گزشتہ روز کی بدامنی کے لیے معافی مانگنے میں ناکام رہے، ان پر توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام لگایا۔

خواتین قانون سازوں کے ساتھ بدتمیزی کو سنجیدہ 

پارلیمانی طریقہ کار کے بارے میں خدشات کو دور کرتے ہوئے، انہوں نے بتایا کہ حکومت محض سابقہ ​​بی آر ایس انتظامیہ کی طرف سے بنائے گئے اصولوں کو نافذ کر رہی ہے۔اسپیکر پرساد کمار نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی خواتین قانون سازوں بشمول سبیتا اندرا ریڈی اور سنیتا لکشما ریڈی کے خلاف پولیس کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور اس کی باقاعدہ رپورٹ طلب کی گئی ہے۔نظم و نسق بحال کرنے کی کوشش میں، اسپیکر پرساد کمار نے ذاتی طور پر بی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کو فون کرکے انہیں سیشن میں مدعو کیا، حالانکہ کے سی آر نے صحت کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے انکار کردیا۔