اتر پردیش 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ حکمراں اتحاد ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہے۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں یوپی کی عوام کا رجحان کس طرف ہے؟ اسی سوال کا جواب ’ووٹ وائب‘ اسٹیٹ وائب سروے کے اعداد و شمار سے سامنے آیا ہے۔ سروے میں عوام سے پوچھا گیا کہ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں کس اتحاد کے جیتنے کی توقع رکھتے ہیں۔ اتر پردیش میں اس وقت بنیادی طور پر دو بڑے سیاسی اتحاد نمایاں ہیں، ایک بی جے پی کی قیادت والا این ڈی اے اور دوسرا سماج وادی پارٹی کی قیادت والا انڈیا اتحاد، جس میں کانگریس بھی شامل ہے۔
سروے کے مطابق 41.1 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ بی جے پی کی قیادت والا این ڈی اے آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ دوسری جانب 41.2 فیصد لوگوں نے انڈیا اتحاد کی جیت کی توقع ظاہر کی ہے۔ یعنی دونوں بڑے اتحادوں کے درمیان فرق صرف 0.1 فیصد کا ہے۔ یہ اعداد و شمار سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے لیے حوصلہ افزا سمجھے جا سکتے ہیں، کیونکہ ’کون جیتے گا‘ کے سوال پر انڈیا اتحاد نے معمولی برتری حاصل کی ہے۔ تاہم، اتنا معمولی فرق یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ مقابلہ انتہائی سخت ہو سکتا ہے۔
جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ خود کس اتحاد کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو تصویر کچھ مختلف نظر آئی۔ 41.8 فیصد جواب دہندگان نے این ڈی اے کو ووٹ دینے کی بات کہی، جبکہ 38.7 فیصد نے انڈیا اتحاد کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس حساب سے دونوں اتحادوں کے درمیان ووٹ شیئر کا فرق 3.1 فیصد بنتا ہے۔ سروے میں بہوجن سماج پارٹی بھی میدان میں موجود نظر آئی۔ تقریباً 4.4 فیصد لوگوں نے مایاوتی کی بی ایس پی پر اعتماد ظاہر کیا، جبکہ 2.8 فیصد نے دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت کی۔
سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ 10.5 فیصد کے قریب لوگوں نے ابھی اپنا فیصلہ ظاہر نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات کے قریب حالات کو دیکھ کر اپنا حتمی فیصلہ کریں گے۔ یہی غیر فیصلہ کن ووٹرز 2027 کے انتخابی نتائج میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یوں ’کون جیتے گا‘ اور ’کسے ووٹ دیں گے‘ کے سوالات کے درمیان فرق ایک دلچسپ سیاسی تصویر پیش کرتا ہے۔ ووٹ دینے کے ارادے میں این ڈی اے کو برتری حاصل ہے، لیکن جیت کی توقع کے معاملے میں دونوں اتحاد تقریباً برابر ہیں۔ یہ سروے اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ 2027 میں یوپی میں مقابلہ بہت سخت ہو سکتا ہے۔ تاہم انتخابات میں ابھی وقت باقی ہے اور سیاسی اتحاد، امیدوار، انتخابی مسائل اور عوامی موڈ آنے والے مہینوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے حتمی نتیجے کے لیے انتخابات تک انتظار کرنا ہوگا۔