اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے ریاستی انتظامیہ کے شعبوں میں تبادلہ کرتے ہوئے 20 آئی اے ایس(IAS) افسران کے تبادلے کر دیے ہیں۔ رات گئے جاری کے گئے احکام کے مطابق کئی سینئر افسران کو نئی ذمہ داریاں دی گئی ہیں تاکہ مختلف سرکاری محکموں کے کام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
سب سے اہم تبدیلیوں میں شوبھا ورما کو محکمہ ریونیو کے سیکریٹری کے عہدے سے ہٹا کر اترپردیش کا نیا لیبر کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ساریکا موہن، جو میڈیکل ایجوکیشن کی ڈائریکٹر جنرل اور محکمہ میڈیکل ایجوکیشن کی سیکریٹری تھی، انہیں اپنی موجودہ ذمہ داریوں کے ساتھ ڈائریکٹر جنرل رجسٹریشن، اترپردیش کی اضافی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
نیہا شرما، جو اب تک ڈائریکٹر جنرل رجسٹریشن کے عہدے پر تھی، انہیں میڈیکل ایجوکیشن کی نئی ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ انہیں محکمہ میڈیکل ایجوکیشن کی سیکریٹری کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔
ارون کمار، جو محکمہ معدنیات میں ایڈیشنل ڈائریکٹر تھے، اب اترپردیش اسٹیٹ دیہی روزگارمشن کے ڈائریکٹر(misson)کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔
محکمہ معدنیات میں خصوصی سیکریٹری جے ریما اپنی موجودہ ذمہ داری کے ساتھ ایڈیشنل ڈائریکٹر محکمہ معدنیات کا اضافی چارج بھی سنبھالیں گی۔
دیپا رنجن، جو اسٹیٹ دیہی روزگارمشن کی ڈائریکٹر تھی، انہیں اب محکمہ ثقافت میں خصوصی سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سنجے کمار سنگھ کو محکمہ ثقافت کے خصوصی سیکریٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ وہ اب ڈائریکٹر فلاحی امور کے طور پر کام جاری رکھیں گے، جبکہ انہیں ڈائریکٹر ثقافت کی اضافی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔
ریا کیجریوال، جو مدھیہ آنچل ودیوت وترن نگم لمیٹڈ(MVVNL) کی منیجنگ ڈائریکٹر تھی، انہیں محکمہ خواتین و اطفال کی خصوصی سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
سندیپ بھاگیہ، جو گوتم بدھ نگر اور غازی آباد میں اسٹیٹ ٹیکس کے ایڈیشنل کمشنر تھے، اب مدھیہ آنچل ودیوت وترن نگم لمیٹڈ کے نئے منیجنگ ڈائریکٹر ہوں گے۔ حکومت کو امید ہے کہ ان کی تقرری سے بجلی تقسیم کرنے والی سرکاری کمپنی کے کام کےشعبوں میں مزید بہتری آئے گی۔
یہ تبادلے کیوں کیے جاتے ہیں؟
حکومت وقتاً فوقتاً آئی اے ایس افسران کے تبادلے کرتی ہے تاکہ مختلف محکموں میں بہتر انتظام، سرکاری منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد اور عوامی خدمات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اس طرح تجربہ کار افسران کو ایسے محکموں میں تعینات کیا جاتا ہے جہاں ان کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے، جس سے حکومت کو اپنی انتظامی ترجیحات پر بہتر انداز میں کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔