بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے 1996 میں سری نگر میں ہجومی تشدد اور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے معاملے میں شبیر احمد شاہ اور حریت کانفرنس کے آنجہانی چیئرمین سید علی گیلانی سمیت چھ سینئر کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کے نام چارج شیٹ میں شامل کیا ہے۔
علیحدگی پسند6 لیڈران کا نام چارج شیٹ میں شامل
30 سال قدیم معاملے میں جمعہ کو این آئی اے کی خصوصی عدالت، میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں علیحدگی پسند لیڈران شبیر احمد شاہ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون، محمد یعقوب وکیل عرف محمد یعقوب وکیل، شکیل احمد بخشی اور سابق جنگجو کمانڈر جاوید احمد میر کو نامزد کیا گیا ہے۔ چھ میں سے سید علی گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد یعقوب وکیل سمیت تین کا انتقال ہو چکا ہے۔
این آئی اے کے ترجمان کے مطابق، تمام چھ افراد پر رنبیر پینل کوڈ، 1989 کی متعلقہ دفعات کے تحت مجرمانہ سازش، قتل کی کوشش، ہنگامہ آرائی اور سرکاری ملازمین پر حملہ کے ساتھ ساتھ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، 1967 کی دفعہ 13 کے تحت چارج کیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا، "چارج شیٹ نے واضح طور پر مجرمانہ سازش اور غیر قانونی اسمبلی کے مشترکہ مقصد میں ان کے کردار کو معاون ثبوتوں کے ساتھ ثابت کیا ہے۔"
این آئی اے نے تحقیقات کے دوران اس بات کا پتہ لگایا کہ تمام چھ ملزمان نے 17 جولائی 1996 کو سری نگر کے ناز کراسنگ میں مقتول عسکریت پسند ہلال احمد بیگ کی نماز جنازہ کے دوران ایک غیر قانونی اسمبلی کی قیادت کی تھی اور پولیس اہلکاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد کو ہوا دی تھی۔
این آئی اے کی جانب سے مقدمہ RC-01/2026/NIA/JMU کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چارج شیٹ میں نامزد حریت رہنماؤں نے تشدد بھڑکانے میں سرگرم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بھارت مخالف، پاکستان نواز اور علیحدگی پسند نعرے لگائے، اشتعال انگیز تقاریر کیں اور مسلح جدوجہد کی کھلے عام حمایت و ترغیب دی۔
این آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ ایجنسی کی جانب سے باریک بینی سے کی گئی تحقیقات سے واضح طور پر ثابت ہوا ہے کہ ہجومی تشدد حریت قیادت کی ایک بڑی، پہلے سے منصوبہ بند مجرمانہ سازش کا حصہ تھا جس کے تحت جلوس جنازہ کو علیحدگی پسند نظریہ کے پرچار، حکومت ہند کے خلاف عوامی حمایت کو متحرک کرنے، عوامی انتشار پھیلانے اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے خلاف تشدد کو بھڑکانے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
اس معاملے میں ابتدائی طور پر ایک ایف آئی آر پولیس اسٹیشن شیر گڑھی، سری نگر میں تشدد کے دن درج کی گئی تھی۔این آئی اے کے ترجمان نے مزید کہا، "اپریل 2026 میں وزارت داخلہ کی ہدایت پر این آئی اے نے کیس کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی تھیں۔ اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔"