آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)کے صدر بیرسٹراسد الدین اویسی نے جمعہ کو تلنگانہ کے چیف سکریٹری سنجے جاجو سے ملاقات کی۔اور مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر میں ریاست کامستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ (پی آرسی) یا فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر غور کرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جاری خصوصی جامع نظرثانی (Special Intensive Revision - SIR) کے دوران تلنگانہ حکومت آئینِ ہند کے آرٹیکل 162 کے تحت ریاست کے ووٹروں کو پرمننٹ ریزیڈنس سرٹیفکیٹ (PRC) یا فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے پرغور کرے۔
حیدرآباد کے رکنِ پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے کہا کہ انہوں نے تلنگانہ مائناریٹی ریذیڈنشل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز سوسائٹی (TMREIS) کے صدر اور وائس چیئرمین فہیم قریشی کے ہمراہ ریاست کے چیف سیکریٹری سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ جاری خصوصی جامع نظرثانی (Special Intensive Revision - SIR) کے دوران تلنگانہ حکومت آئینِ ہند کے آرٹیکل 162 کے تحت ریاست کے ووٹروں کو پرمننٹ ریزیڈنس سرٹیفکیٹ (PRC) یا فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر غور کرے۔
اویسی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی ان کے اس مطالبے کو قبول کرتے ہیں تو اس سے تلنگانہ کے غریب عوام کو جاری SIR کے تحت حتمی ووٹر فہرست میں اپنے نام شامل کروانے میں سہولت ملے گی اور انہیں غیر ضروری مشکلات اور پریشانیوں سے نجات حاصل ہوگی۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ نے نشاندہی کی کہ کرناٹک حکومت کرناٹک سکالا سرویس ایکٹ 2011 کے تحت ایک جی او کے ذریعے پی آر سی سرٹیفکیٹ جاری کر رہی ہے۔
بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے پاس ریاست کے شہریوں سے متعلق متعدد مستند اور قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس موجود ہیں، جن میں سمگرا کٹمبا سروے (Samagra Kutumba Survey)، سماجی، معاشی اور ذات پر مبنی سروے 2024 اور 2025، بھو بھارتی ایکٹ 2025 (BHU Bharati Act 2025)، محکمہ شہری رسد (Civil Supplies Department) کا فوڈ سکیورٹی کارڈ ڈیٹا بیس، بلدیاتی ٹیکس ریکارڈ اور اسکولوں و تعلیمی بورڈز کے ریکارڈ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا، "امید ہے کہ تلنگانہ کے غریب عوام، اقلیتوں، پسماندہ طبقات (BCs)، درج فہرست ذاتوں (SCs) اور درج فہرست قبائل (STs) کے وسیع تر مفاد میں مثبت فیصلہ کیا جائے گا۔6 جولائی کو، اویسی نے تلنگانہ حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ غریبوں کے لیے فوری طور پر PRC جاری کرے، یہ کہتے ہوئے کہ بہت سے لوگوں کے پاس دستاویزات کی کمی ہے اور جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران ووٹر لسٹ سے خارج ہونے کا خطرہ ہے۔
حیدرآباد کے ایم پی نے جاننا چاہا کہ ریاستی حکومت کو پی آرسی جاری کرنے سے کون روک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمراں جماعت یہ نہیں سمجھ رہی ہے کہ تلنگانہ کے غریبوں کے پاس دستاویزات کی کمی ہے تو یہ حقیقت سے بالکل لا علم ہے۔اویسی نے حکمراں کانگریس پارٹی سے کہا کہ وہ حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد لوگوں کے پاس نہ آئیں اور انہیں تسلی دیں اور پھر سازش کی شکایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سازش ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی حل تلاش کریں، اور اس کا حل پی آر سی ہے۔
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ انہوں نے یہ مسئلہ پہلے ہی ڈپٹی چیف منسٹر مالو بھٹی وکرمارک کے ساتھ اٹھایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے ساتھ ملاقات کا وقت چاہتے ہیں اور ریمارک کیا کہ چیف منسٹر بہت مصروف ہیں۔