• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران پر امریکی فضائی حملے، ٹرمپ کی نئی دھمکی سے خطے میں کشیدگی

ایران پر امریکی فضائی حملے، ٹرمپ کی نئی دھمکی سے خطے میں کشیدگی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 24, 2026 IST

ایران پر امریکی فضائی حملے، ٹرمپ کی نئی دھمکی سے خطے میں کشیدگی
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران میں ایک نئی فضائی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے، جس میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی کے دوران ایران کی ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاعی نظام اور دیگر عسکری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
 
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا اور خطے میں بین الاقوامی بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ حالیہ کارروائیاں بحری راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر کی گئی ہیں۔
 
دوسری جانب ایران کی جانب سے ان حملوں پر باضابطہ ردِعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم خطے میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور نئی پیش رفت پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
 
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک اور سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ کیا گیا تو امریکہ فوری اور سخت جواب دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورت میں ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جن میں تہران اور اس کے نواحی علاقوں کے اہم انفراسٹرکچر بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
 
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی بحری جہاز پر میزائل، ڈرون، راکٹ یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کیا تو امریکہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر فضائی کارروائی کرے گا۔
 
ادھر ایرانی حکام کے مطابق بدھ کی صبح امریکہ نے ملک کے مختلف حصوں میں بیک وقت فضائی اور میزائل حملے کیے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ چابہار، کونارک، تبریز، بہبہان اور امیدیہ سمیت پانچ شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے کے بعد یہ مسلسل گیارہویں رات ہے جب امریکی حملے کیے گئے ہیں۔
 
دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات پر جلد قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔