مشرقِ وسطیٰ سے اس وقت کی سب سے بڑی خبر سامنے آ رہی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ چھڑ گئی ہے۔ امریکہ نے ایران کے بندر عباس بندرگاہ پر ایک طاقتور فضائی حملہ کیا ہے۔جس کے جواب میں ایران نے بھی انتہائی جارحانہ جوابی کاروائی کی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے ایک کے بعد ایک تیزی سے کئی بڑے میزائل داغ کر امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی 'تسنیم' کی رپورٹ کے مطابق، آئی آر جی سی (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بندر عباس ہوائی اڈے کے قریب ہوئے امریکی حملے کا بدلہ لینے کے لیے خطے میں موجود امریکہ کے ایک بڑے ایئربیس کو نشانہ بناتے ہوئے تباہ کن میزائل حملہ کیا ہے۔
امریکہ کو ایران کی کھلی اور آخری انتباہ :
پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے امریکہ کو براہِ راست اور سخت ترین الفاظ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ،اگر ایران کی خود مختاری پر دوبارہ اس طرح کا کوئی بھی حملہ کیا گیا، تو اگلا جوابی وار پہلے سے کہیں زیادہ مہلک، تباہ کن اور فیصلہ کن ہوگا۔ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی بڑے تصادم یا جانی و مالی نقصان کی تمام تر ذمہ داری حملہ آور فریق (امریکہ) پر عائد ہوگی۔
واضح رہے کہ یہ بحران اس وقت انتہا پر پہنچا جب بدھ کی دیر رات قریب 1:30 بجے بندر عباس شہر کے مشرقی حصے میں یکے بعد دیگرے تین خوفناک دھماکے سنے گئے۔ مقامی عینی شاہدین کے مطابق، دھماکے اتنے شدید تھے کہ آسمان میں آگ اور دھوئیں کے بادل میلوں دور سے دیکھے گئے۔
امریکی حکام کا مؤقف:
دوسری طرف، ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' (Reuters) کو بتایا کہ امریکی فوج نے ایران کے اندر ایک ایسے مخصوص فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے، جو 'اسٹریٹ آف ہرمز' میں امریکی افواج اور عالمی تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا تھا۔ امریکی اہلکار کے مطابق، یہ کاروائی مکمل طور پر خود کی دفاع میں کی گئی ہے۔
پورے مڈل ایسٹ میں ریڈ الرٹ، جنگ پھیلنے کا خطرہ
ایران کی جانب سے امریکی ایئربیس پر کیے گئے جوابی میزائل حملوں کے بعد پورے مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ اور دھماکہ خیز ہو گئی ہے۔ تمام خلیجی ممالک میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور معیشت پر اس جنگ کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ سب کی نظریں اب واشنگٹن اور تہران کے اگلے اقدامات پر ٹکی ہوئی ہیں۔