Saturday, February 07, 2026 | 19, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • پاکستان کو لگا بڑا جھٹکا:امریکہ نے پی او کے کو بھارت کا حصہ تسلیم کرلیا

پاکستان کو لگا بڑا جھٹکا:امریکہ نے پی او کے کو بھارت کا حصہ تسلیم کرلیا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 07, 2026 IST

پاکستان کو لگا بڑا جھٹکا:امریکہ نے پی او کے کو بھارت کا حصہ تسلیم کرلیا
امریکہ نے جموں و کشمیر پر پاکستان کو بڑا سفارتی دھچکا دیا ہے۔ امریکہ  نے جموں و کشمیرکو بھارت کا اٹوٹ انگ (حصہ ) ہونے کے دعوے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر (یو ایس ٹی آر) کی طرف سے جاری کردہ  انڈیا  کے نقشے میں واضح طور پر پورے جموں و کشمیر بشمول پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کو  بھارتی  علاقہ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے امریکی قیادت نے بالواسطہ طور پر واضح کر دیا ہے کہ وہ بھارت کے سیاسی نقشے کو قبول کرتی ہے اور بے بنیاد علاقائی دعوؤں کی حمایت نہیں کرے گی۔
 
یہ نقشہ انڈیا اورامریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے فریم ورک سے متعلق گرافک کے حصے کے طور پر جاری کیا گیا تھا۔ یہ پیش رفت اسلام آباد کے لیے ایک ایسے وقت میں انتہائی شرمناک بن گئی ہے جب پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر واشنگٹن میں اپنے حق میں لابنگ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اس واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ ان جھوٹ پر یقین نہیں کرتا جو پاکستان کئی دہائیوں سے پھیلا رہا ہے۔
 
اس اقدام نے واضح اشارہ دیا کہ پاکستان سے فوجی سازوسامان کی فروخت اور معدنیات نکالنے کے حوالے سے امریکہ کو فوائد کے باوجود وہ بھارت کے ساتھ اپنی سٹریٹجک شراکت داری کو ترجیح دیتا ہے۔ امریکہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ عالمی سیاست میں اہم عالمی شراکت دار بھارت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ ایک سفارتی دھچکا ہے ۔امریکہ کی طرف سے جاری کردہ یہ نقشہ صرف ایک تصویر نہیں ہے۔ یہ امریکہ کی سوچ کا ایک بڑا اشارہ ہے۔بھارت  نے ہمیشہ کہا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کا پورا خطہ ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے۔ 
 
اس میں پی او کے اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔ اب سرکاری امریکی اکاؤنٹ سے ایسے نقشے کے جاری ہونے کا مطلب ہے کہ واشنگٹن بھارت کے موقف کو قبول کر رہا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پی او کے کے معاملے پر امریکہ اب غیر جانبدار نہیں ہے۔ یہ حالیہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے ساتھ آتا ہے۔ دونوں ممالک نے محصولات میں کمی اور تجارتی معاہدے کے لیے ایک فریم ورک جاری کیا ہے۔
 
 
انڈیا-امریکہ تجارتی معاہدے کے ایک حصے کے طور پر، انڈیا امریکہ سے درآمد کی جانے والی متعدد مصنوعات پر ٹیرف کم کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی واشنگٹن نے بھارت سے درآمد کی جانے والی اشیا پر ٹیرف کو 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے اور اضافی 25 فیصد ٹیرف واپس لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس تجارتی معاہدے کے اعلان کے حصے کے طور پر جاری کیا گیا نقشہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور مضبوط تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
 
امریکہ کا یہ اقدام پاکستان کے لیے بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان کئی دہائیوں سے پی او کے پرغیرقانونی طور پر قابض ہے۔ بھارت نے پی او کے واپس لینے کا عزم کیا ہے۔اب پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو اس نقشے کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے۔ ان کا پرانا دوست امریکہ اب انڈیا کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔