امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کی جانب سے کیے گئے تازہ حملوں نے نہ صرف خطے میں سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے بلکہ جاری جوہری مذاکرات اور ممکنہ جنگ بندی کی کوششوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق یہ کارروائی دفاعی بنیادوں پر کی گئی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایرانی فورسز کی سرگرمیاں امریکی فوجیوں اور جنگی جہازوں کے لیے خطرہ بن رہی تھیں، جس کے بعد محدود مگر انتہائی ہدفی آپریشن کیا گیا۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ ایرانی کشتیاں آبنائے ہرمز کے قریب سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں جبکہ بعض میزائل لانچنگ مقامات کو بھی فعال کیا جا رہا تھا۔
امریکی فوج کے مطابق ان خطرات کے پیش نظر متعلقہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا تاکہ خطے میں موجود امریکی اہلکاروں اور بحری اثاثوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ تاہم اس کارروائی میں ہونے والے ممکنہ نقصانات یا ہلاکتوں کے حوالے سے مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور کشیدگی میں کمی کے حوالے سے سفارتی بات چیت جاری ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ کہیں فوجی کارروائیاں مذاکراتی عمل کو متاثر نہ کر دیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس خطے میں کسی بھی قسم کی فوجی سرگرمی عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی سیاست پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
اسی دوران امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے افزودہ یورینیم کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری مواد کو یا تو ختم کیا جائے گا یا ایسے انتظامات کیے جائیں گے جن سے مستقبل کے خدشات ختم ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے مذاکرات میں بعض معاملات پر پیش رفت کا اعتراف کیا ہے، تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی مؤقف میں بار بار تبدیلیاں کسی حتمی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
مزید برآں، ٹرمپ نے ایران مذاکرات کو Abraham Accords سے جوڑتے ہوئے خطے کے مزید ممالک کو اس عمل میں شامل کرنے کی تجویز دی، جس کے بعد سفارتی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
اب نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا امریکہ اور ایران مذاکرات کے راستے پر قائم رہتے ہیں یا حالیہ فوجی کشیدگی خطے کو ایک نئے بحران کی طرف لے جاتی ہے۔