امریکہ کے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر ملاحوں کی ذہنی صحت اور مسلسل طویل تعیناتی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کچھ ملاحوں نے جہاز سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی، جس کے بعد ان کی ذہنی حالت اور جہاز پر موجود عملے کی مجموعی صورتحال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تقریباً 5 ہزار ملاح اور میرینز موجود ہیں۔ یہ بحری جہاز کئی ماہ سے سمندر میں تعینات ہے اور حالیہ عرصے میں ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران امریکی فوجی کاروائیوں میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
اہل خانہ نے ملاحوں کی حالت پر تشویش ظاہر کردی
امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود ایک ملاح کی اہلیہ اینابیل لوما نے بتایا کہ ان کے شوہر نے مبینہ طور پر جہاز سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی، جس کے بعد انہیں طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ اینابیل لوما کے مطابق، ان کے شوہر کو خدشہ ہے کہ اس واقعے کی وجہ سے ان کا 13 سالہ فوجی کیریئر متاثر ہو سکتا ہے۔ انہیں یہ بھی ڈر ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں انہیں فوج میں بے عزتی یا سخت کاروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک اور ملاح کی اہلیہ نے بھی اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک ملاح نے اپنی اہلیہ کو پیغام بھیجا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلے دن آنکھ نہیں کھولے گا۔ اس واقعے نے ملاحوں کے خاندانوں میں مزید تشویش پیدا کر دی ہے۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ مسلسل کئی ماہ تک سمندر میں رہنے کی وجہ سے ملاحوں میں تھکن اور ذہنی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بعض اہل خانہ نے ملاحوں کے حوصلے میں کمی کی بھی شکایت کی ہے۔
بحری جہاز پر کھانے اور بنیادی سہولیات کی شکایات
ملاحوں کے اہل خانہ نے صرف ذہنی دباؤ کی شکایت نہیں کی بلکہ جہاز پر روزمرہ کی بنیادی سہولیات کے بارے میں بھی سوال اٹھائے ہیں۔ خاندانوں کے مطابق بعض اوقات کھانے اور پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ صفائی کے سامان کی بھی کمی رہی۔ بعض اہلکاروں کے مطابق جہاز کے کچھ شاورز میں پھپھوندی موجود تھی اور کچھ بیت الخلا بھی خراب تھے۔
نو ماہ سے سمندر میں موجود ہے جہاز
یو ایس ایس ابراہم لنکن تقریباً نو ماہ سے مسلسل تعینات ہے۔ یہ ایک جوہری توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز ہے اور اس پر ہزاروں ملاح اور میرینز موجود ہیں۔ یہ جہاز 21 نومبر کو سان ڈیاگو سے ایک مشن کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس کی تعیناتی مئی 2026 میں ختم ہونے کی توقع تھی، لیکن بعد میں اس میں توسیع کردی گئی۔ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے بعد جہاز کو مشرق وسطیٰ کی طرف بھیج دیا گیا اور اسے بحیرہ عرب میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے تحت تعینات کیا گیا۔ اب تک اس کی واپسی کی کوئی سرکاری تاریخ نہیں بتائی گئی۔
اب دوسرے جنگی جہاز سے ابراہم لنکن کی جگہ لینے کی تیاری
اس صورتحال کے درمیان امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کے جنگی گروپ کو مستقبل میں مشرق وسطیٰ بھیجا جائے گا تاکہ ابراہم لنکن کی جگہ لی جا سکے۔ بحریہ نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ ابراہم لنکن کب واپس آئے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واپسی کی درست تاریخ بتانا آپریشنل سکیورٹی کی وجہ سے ممکن نہیں۔ یہ پیش رفت ملاحوں کے اہل خانہ کے لیے اہم ہے کیونکہ وہ طویل تعیناتی ختم ہونے اور اپنے پیاروں کی واپسی کی تاریخ جاننے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ملاحوں کو زمین پر بہت کم وقت ملا
رپورٹس کے مطابق نو ماہ سے زیادہ عرصے کی تعیناتی کے دوران جہاز پر موجود ملاحوں کو زمین پر بہت کم وقت گزارنے کا موقع ملا۔ ملاحوں کو پہلی مرتبہ دسمبر میں گوام کے دورے کے دوران زمین پر جانے کا موقع ملا، بہت سے ملاحوں کو جہاز سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے بعد جولائی میں عمان میں جہاز کے لیے ضروری سامان لینے کے دوران ملاحوں کو دوبارہ زمین پر اترنے کا موقع ملا۔ انہیں بندرگاہ کے ایک محفوظ علاقے تک محدود رکھا گیا۔ اس طرح مسلسل کئی ماہ تک سمندر میں رہنے اور محدود وقت کے لیے ہی زمین پر جانے کی وجہ سے ملاحوں میں تھکن اور ذہنی دباؤ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ڈیموکریٹک ارکان نے حکومت سے جواب مانگ لیا
ان رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد کئی ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ اور بحریہ کے حکام سے جواب طلب کیا ہے۔ ان قانون سازوں میں رچرڈ بلومینتھل، مائیک لیون اور جیسن کرو شامل ہیں۔ انہوں نے طویل تعیناتی کے دوران ملاحوں کو درپیش مسائل اور ان کی ذہنی صحت کے بارے میں وضاحت مانگی ہے۔ مائیک لیون نے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اہلکار بنیادی ضروریات اور مناسب سہولیات کے حقدار ہیں۔ انہوں نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر بھی ملاحوں اور ان کے خاندانوں کی تشویش کو مناسب طریقے سے دور نہ کرنے کا الزام لگایا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مسلسل تعیناتی، گھر سے دوری اور جنگی صورتحال نے ملاحوں پر اضافی دباؤ ڈالا ہے۔ اب ان واقعات کے بعد یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود عملے کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود پر مزید توجہ دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
بحریہ کا مؤقف بھی سامنے آگیا
دوسری جانب امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ جہاز کی قیادت ملاحوں کی ذہنی اور جسمانی حالت پر مسلسل نظر رکھ رہی ہے۔ بحریہ کے مطابق جہاز پر ذہنی صحت سے متعلق مدد کے لیے مشیر، پادری، طبی عملہ اور دیگر معاون خدمات موجود ہیں۔ بحریہ نے یہ نہیں بتایا کہ موجودہ تعیناتی کے دوران کتنے ملاحوں نے خود کو نقصان پہنچانے یا جہاز سے سمندر میں جانے کی کوشش کی۔