تقریباً 12 سال تک شام کی سرزمین پر رہنے کے بعد اب امریکی فوج وہاں سے مکمل طور پر انخلاء کر چکے ہیں۔16 اپریل 2026 کو شام کے حسکہ میں واقع قصراق ایئر بیس سے آخری امریکی قافلہ باہر نکل گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی شام میں امریکی فوجی کی موجودگی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا ہے۔ جیسے ہی آخری امریکی فوجی نے بیس چھوڑا، شامی حکومت کی فوج نے فوراً ان ٹھکانوں پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا اور اب وہاں شامی پرچم لہررہا ہے۔
شام کی وزارتِ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ امریکی فورسز کے مکمل انخلا ءکے بعد اب تقریبا مکمل کنٹرول شامی فوج نے اپنے اختیارمیں لے لیا ہے۔اسکے علاوہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ تقریباً 2000 فوجی اردن کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔
شام کی حکومت اور ایس ڈی ایف کے درمیان معاہدہ:
اس دوران، شام کی حکومت اور ایس ڈی ایف (SDF) کے درمیان ہوئے معاہدے کے بعد کرد جنگجوؤں کو قومی فوج میں شامل کیا جا رہا ہے۔ حسکہ اور قامشلی جیسے شہروں میں سرکاری فوجیں تعینات ہو چکی ہیں اور سرحدی علاقوں پر بھی دمشق کا کنٹرول بڑھ گیا ہے۔
اسی سال دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں، جس کے بعد مارچ میں ایک نیا معاہدہ ہوا۔ اس کے تحت ایس ڈی ایف اور کرد انتظامی ڈھانچے کو آہستہ آہستہ ریاست میں شامل کرنے کا عمل شروع ہوا ہے۔
شام نے حال ہی میں بین الاقوامی اینٹی آئی ایس آئی ایل اتحاد میں شامل ہو کر اپنا کردار تبدیل کیا ہے۔ اس سے امریکہ کے لیے شام میں فوجی موجودگی کا بنیاد کمزور ہوا اور اب وہ علاقے میں اپنی حکمت عملی کو نئے سرے سے طے کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ ایس ڈی ایف ایک کرد قیادت والا اتحاد ہے، جسے 2015 میں بنایا گیا تھا اور اس میں کرد، عرب اور دیگر مقامی گروہ شامل ہیں۔ شام کے خانہ جنگی کے دوران جب حکومت کمزور ہوئی تو کرد جنگجوؤں نے شمال مشرقی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ بعد میں یہی ایس ڈی ایف کے طور پر ایک مضبوط طاقت بن گیا۔
امریکہ اور شام کےتعلقات میں بہتری :
امریکہ اور شام کے تعلقات کئی دہائیوں تک تناؤ سے بھرے رہے، لیکن دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے گرنے کے بعد ان میں تیزی سے بہتری آئی ہے۔ مئی 2025 میں سعودی عرب میں ٹرمپ اور احمد الشارا کی پہلی ملاقات ہوئی، جس کے بعد امریکہ نے شام پر لگے زیادہ تر پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا۔
امریکہ اور شام کے سفارتی تعلقات کا آغاز 1835 میں ہوا تھا۔ تاہم، 2011 میں شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی کے بعد صورتحال بدل گئی۔ 2012 میں امریکہ نے دمشق سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کر دیے اور شام کو دہشت گردی کی حامی ریاست قرار دے دیا۔
اسد حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال ، ایران اور حزب اللہ کو حمایت دینے کے الزامات لگے۔ امریکہ نے شامی اپوزیشن کی حمایت کی اور 2014 سے اسلامی ریاست (ISIS) کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا۔ اس کے تحت مشرقی شام میں سینکڑوں امریکی فوجی تعینات کیے گئے تھے۔