Saturday, May 23, 2026 | 05 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • بہار میں مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی پر پتھراؤ، جلسے کے دوران حملہ، دو نوجوان گرفتار

بہار میں مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی پر پتھراؤ، جلسے کے دوران حملہ، دو نوجوان گرفتار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 22, 2026 IST

بہار میں مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی پر پتھراؤ، جلسے کے دوران حملہ، دو نوجوان گرفتار
بہار کے گیا ضلع میں 22 مئی  کی شام ایک عوامی تقریب کے دوران مرکزی وزیر اور ہندوستانی عوام مورچہ کے سربراہ جیتن رام مانجھی پر پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا۔ خوش قسمتی سے وہ اس حملے میں محفوظ رہے تاہم ایک سکیورٹی اہلکار معمولی زخمی ہوا۔
 
یہ واقعہ گیا میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران پیش آیا۔ پولیس کے مطابق تقریب میں مقامی انتظامیہ اور اسکول حکام نے مرکزی وزیر کا استقبال کیا تھا، جس کے بعد وہ خطاب کے لیے اسٹیج کی طرف بڑھ رہے تھے کہ اسی دوران پنڈال کے باہر سے پتھر پھینکا گیا۔
 
بتایا جاتا ہے کہ پتھر براہ راست وزیر پر نہیں لگا بلکہ ان کے پیچھے کھڑے ایک سکیورٹی اہلکار کو جا لگا۔ واقعے کے فوراً بعد موقع پر موجود پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو نوجوانوں کو حراست میں لے لیا، جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ اس وقت تک پولیس یا مرکزی وزیر کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
 
سکیورٹی میں اضافہ اور تفتیش
 
پولیس حکام کے مطابق تقریب کے مقام پر اضافی نفری تعینات تھی، تاہم اچانک ہونے والے اس واقعے نے سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دونوں گرفتار افراد سے حملے کے محرکات جاننے کے لیے تفتیش جاری ہے۔
 
پچھلے واقعات سے تعلق کی بحث
 
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل اسی علاقے میں جیتن رام مانجھی کے قریبی اہل خانہ سے متعلق ایک قافلے پر حملے کی بھی رپورٹ سامنے آئی تھی۔ اس کے علاوہ ان کو سوشل میڈیا پر مبینہ دھمکیوں کے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے تھے، جن میں ایک ویڈیو کے ذریعے ممکنہ حملے کی بات کہی گئی تھی، تاہم پولیس نے بعد میں اس کیس میں ایک ملزم کو گرفتار کر لیا تھا۔
 
سیاسی ردعمل اور ماحول
 
اگرچہ اس تازہ واقعے پر سرکاری سطح پر فوری بیان سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی حلقوں میں عوامی نمائندوں کی سکیورٹی اور ریاست میں امن و امان کی صورتحال پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق انتخابی سرگرمیوں اور عوامی جلسوں کے دوران اس طرح کے واقعات سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔