جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منگل کو اس وقت ہنگامہ برپا ہوا جب وزیراعلی عمر عبداللہ بجٹ پرخطبے کے دوران حزب اختلاف سے یہ کہہ بیٹھے کہ وزیر داخلہ کے جوتے پڑنے کے بعد ان کے سْرہی بدلے ہیں۔ اس بات کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی نے جم کر ہنگامہ مچایا اور وزیراعلی سے معافی مانگنے کی مانگ کی۔
شری ماتا ویشنو دیوی روپ وے میں کابینہ کا عمل دخل نہیں
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج قانون ساز اسمبلی میں واضح کر دیا کہ شری ماتا ویشنو دیوی روپ وے منصوبے کی منظوری میں موجودہ کابینہ یا انتظامی کونسل کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ انہوں نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ منتخب حکومت کے قیام سے قبل ستمبر 2024 میں ایل جی نے کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے بی جے پی رکن اسمبلی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایوان اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا ۔
کشمیریوں نے ہمیشہ یاتریوں کو اپنے کندھوں پر اٹھایا
سی ایم عمرعبداللہ نے کہا، "ہم نے امرناتھ یاترا کے لیے کب سہولت فراہم نہیں کی؟ کشمیریوں نے ہمیشہ یاتریوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر غار تک پہنچنے میں مدد کی ہے۔ یاترا کشمیریوں کے بغیر کب ممکن ہوئی؟
وزیر اعلیٰ نے بجٹ پر بحث کے دوران ایوان میں بی جے پی لیڈر کے دعوے پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اسمبلی کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ، "آپ مجھے بتائیں - ان (کشمیریوں) کے بغیر یہ کب ممکن ہوا؟ آج یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے جس کی سہولت فراہم کی جائے۔ یہ غار خود ایک مقامی نے دریافت کیا تھا۔"وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت اور کشمیری عوام نے ہمیشہ اس یاترا کی سہولت فراہم کی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ اس کا آرٹیکل 370 سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یاترا کشمیری مسلمانوں نے سہولت فراہم کی ہے
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے منگل کو کہا کہ امرناتھ یاترا کو ہمیشہ کشمیری مسلمانوں نے سہولت فراہم کی ہے اور مستقبل میں بھی ایسا کرتے رہیں گے۔ عبداللہ نے یہ تبصرہ قائد حزب اختلاف سنیل شرما کے اس دعوے کے جواب میں کیے کہ حکومت کی طرف سے امرناتھ یاتریوں کے لیے سہولیات کو بہتر بنانے کا خصوصی انتظام اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ہی ممکن ہوا تھا۔
بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ جموں و کشمیر کو نقصان
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ جموں و کشمیر کی معیشت، بالخصوص باغبانی اور میوہ جات کے شعبوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ جموں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بادام، سیب اور زعفران جیسی مقامی فصلوں پر ڈیوٹی فری درآمدات کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ دیگر ریاستوں کے لیے سودمند ہو سکتا ہے، مگر کشمیر کے لیے صرف نقصان دہ ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اُنکی اپنی ہی دی ہوئی دھمکی اور ڈٹے رہنا نہیں آیا۔