اتر پردیش کے سہارنپور میں ایک نابالغ دلت نوجوان کے قتل کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متوفی 14 سالہ میانک ہے جو کہ 9ویں جماعت کا طالب علم ہے۔ یہ واقعہ دیوبند کوتوالی علاقے کے علی پور گاؤں میں پیش آیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ ساگر جین نے بتایا کہ نوجوان کا قتل کیا گیا تھا اور اس کی لاش کو ریلوے پٹریوں پر پھینک دیا گیا ،تاکہ یہ خود کشی جیسا ظاہر ہو۔ میانک کے اہل خانہ نے قتل کا الزام اپنی ہی ذات کی ایک لڑکی کے خاندان پر لگایا ہے، جو ان کی کلاس میں پڑھتی تھی۔
کیا ہے پورامعاملہ؟
میانک کے والد روپ چند نے وضاحت کی کہ ان کا بیٹا دیوبند کے ایک انٹر کالج میں پڑھتا ہے۔ اسے اپنی ہی ذات کی ایک لڑکی سے پیار تھا جو اس کی کلاس میں بھی پڑھتی تھی۔ بدھ کی دیر رات، میانک کو لڑکی کے گھر سے ایک کال موصول ہوئی، جس میں اسے اس سے ملنے کی دعوت دی گئی۔ جب کافی دیر تک میانک واپس نہیں آیا تو گھر والوں نے اس کی تلاش شروع کردی۔ اہل خانہ نے پولیس کو مطلع کیا، اور جمعرات کو پتہ چلا کہ میانک کی لاش پٹریوں پر ملی تھی۔
لوکو پائلٹ نے پولیس کو اطلاع دی:
پولیس نے اطلاع دی کہ میانک کی لاش بوری میں بھر کر ریلوے پٹریوں پر پھینک دی گئی۔ لوکو پائلٹ نے بوری کو پٹریوں پر دیکھا اور پولیس کو آگاہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ لاش کو مارا پیٹا گیا اور بعد میں چاقو کے وار کرکے قتل کیا گیا۔ میانک کے گھر والوں کو لاش کی شناخت کے لیے بلایا گیا، اور انھوں نے اس کی شناخت کی۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔
گاؤں میں کشیدگی کا ماحول:
نوجوان کے قتل کے بعد روپ چند نے لڑکی کے والدین اور بہن بھائیوں سمیت پانچ افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا۔ واقعہ کے بعد گاؤں میں سوگ اور کشیدگی ہے۔ علاقے میں پولیس کو تعینات کر دیا گیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کر رہے ہیں۔ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔