Wednesday, September 02, 2026 | 18 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • وی ڈی ستھیسن کا کنتھا پورم کے بیان پر سخت ردعمل، کہا: خواتین کو گھر تک محدود نہیں کیا جا سکتا

وی ڈی ستھیسن کا کنتھا پورم کے بیان پر سخت ردعمل، کہا: خواتین کو گھر تک محدود نہیں کیا جا سکتا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 02, 2026 IST

 وی ڈی ستھیسن کا کنتھا پورم کے بیان پر سخت ردعمل، کہا: خواتین کو گھر تک محدود نہیں کیا جا سکتا
کیرالہ میں خواتین کے کردار اور آزادی سے متعلق بیان پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ وی ڈی ستھیسن نے معروف سنی اسلامی اسکالر کنتھا پورم اے پی ابو بکر مسلیار کے اس بیان کی سخت مخالفت کی ہے، جس میں خواتین کے گھروں کی حدود میں رہنے پر زور دیا گیا تھا۔ ستھیسن نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایسی سوچ کیرالہ کی ترقی پسند روایت اور جدید معاشرتی نظریات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وی ڈی ستھیسن نے کہا کہ وہ اس بیان سے کسی بھی صورت اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق خواتین کا کردار صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھنے اور معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کا پورا حق حاصل ہونا چاہیے۔
 
ستھیسن نے کہا کہ کیرالہ کی ترقی پسند سوچ ہمیشہ خواتین کی تعلیم، خود مختاری اور سماجی شمولیت کی حامی رہی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو سیاست، تعلیم، تجارت، انتظامیہ اور دیگر تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے سی ایم وی ڈی ستھیسن  نے اسلامی تاریخ کی مختلف مثالوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے ملکہ بلقیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تاریخ اور روایات میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں، جہاں خواتین نے حکمرانی، تجارت اور دیگر اہم شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق اسلامی تاریخ میں ایک خاتون کے حکمران ہونے، تجارت سے وابستہ رہنے اور فوجی قیادت جیسے کردار ادا کرنے کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔
 
وی ڈی ستھیسن نے خلفائے راشدین کے دور سے متعلق ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون نے مہر سے متعلق ایک معاملے پر سوال اٹھایا تھا اور اس کی دلیل کو تسلیم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مثالیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ خواتین کو مختلف سماجی اور عوامی معاملات میں اپنی رائے دینے اور کردار ادا کرنے کا حق حاصل رہا ہے۔
 
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سنی اسلامی اسکالر کنتھا پورم اے پی ابو بکر مسلیار نے کوچی میں منعقد ایک تقریب کے دوران خواتین کے عوامی زندگی میں کردار سے متعلق اپنا موقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ خواتین کو گھروں کی حدود میں رہنا چاہیے اور ان کے کھلے عام عوامی پلیٹ فارم پر آنے سے معاشرے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے اس موقف کو مذہبی اصولوں اور پردے کے تصور سے جوڑا تھا۔ مسلیار نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی تنظیم سے وابستہ علماء طویل عرصے سے اسی سوچ کی تعلیم دیتے آ رہے ہیں اور وہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کی مخالفت کے باوجود مذہبی اصولوں کے مطابق اپنا موقف پیش کرتے رہیں گے۔اب وی ڈی ستھیسن کے سخت ردعمل کے بعد کیرالہ میں خواتین کی آزادی، سماجی کردار اور مذہبی و ترقی پسند نظریات کے درمیان بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔