Thursday, June 04, 2026 | 17 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • فلمیں/ طرززندگی
  • »
  • فلم پروڈیوسراورسابق صدرنشین سی بی ایف سی، پہلاج نہلانی نہیں رہے

فلم پروڈیوسراورسابق صدرنشین سی بی ایف سی، پہلاج نہلانی نہیں رہے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 04, 2026 IST

فلم پروڈیوسراورسابق صدرنشین سی بی ایف سی، پہلاج نہلانی نہیں رہے
  تجربہ کار فلم پروڈیوسر اور سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) کے سابق چیئرپرمین، پہلاج نہلانی نے طویل علالت کے بعد آج صبح ممبئی میں اپنی رہائش گاہ پر انتقال کر گئے۔ وہ 76 برس کے تھے۔ آخری رسومات آج سہ پہر 3 بجے ممبئی کے سانتا کروز کے قبرستان میں ادا کی گئیں۔
خاندان کی جانب سےجاری کئےگئے بیان کے مطابق، "گہرےغم کے ساتھ، ہم آپ کو 4 جون 2026 کو اپنے پیارے پہلاج نہلانی کے انتقال کی اطلاع دیتے ہیں۔ آخری رسومات، 04.06.2026 کوسہ پہر 3 بجے سانتا کروز ہندو قبرستان میں ہوگی۔ ہم آپ کے خیالات اور آخری دعا کے لیے شکر گزار ہیں۔"
 
پہلاج نہلانی کئی دہائیوں سے ہندی فلم انڈسٹری کا ایک جانا پہچانا نام رہا ہے، وہ بطور فلم پروڈیوسر اور سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی ) کے سابق چیئرمین کے طور پر خدمات بھی انجام دی۔ اور تنازعات میں گھرے رہے۔

بطور فلم پروڈیوسرآنکھیں سب سےکامیاب فلم 

نہلانی نے1980 کی دہائی کے اوائل میں بطور فلم پروڈیوسراپنا سفر شروع کیا۔ ان کی پہلی پروڈکشن، ہتھکڑی،1982 میں ریلیز ہوئی، اس کے بعد 1985 میں آندھی طوفان ریلیز ہوئی۔ ان کی نمایاں خدمات میں سے ایک 1986 میں سامنے آئی جب انہوں نے فلم الزام بنائی، جس سے گووندا نے بطور اداکار ہندی فلم انڈسٹری میں قدم رکھا۔ ایک سال بعد انہوں نے فلم آگ ہی آگ پروڈیوس کی، جس کے ذریعے چنکی پانڈے نے ہندی سنیما میں اپنا آغاز کیا۔ نہلانی نے کئی تجارتی کامیاب فلموں کی سرپرستی کی، جن میں گناہوں کا فیصلہ، پاپ کی دنیا، مٹی اور سونا، شعلہ اور شبنم اور آنکھیں شامل ہیں۔ان میں سے آنکھیں 1990 کی دہائی کی سب سے بڑی بالی ووڈ بلاک بسٹر فلموں میں شامل ہوئی اور ایک کامیاب پروڈیوسر کے طور پر ان کی شہرت کو مضبوط کیا۔

ہدایت کاری کی طرف قدم

فلمیں پروڈیوس کرنے کے علاوہ نہلانی نے مختصر عرصے کے لیے ہدایت کاری بھی کی۔ 2012 میں انہوں نے گووندا کی اداکاری والی فلم اوتارکی ہدایت کاری کی۔ انہوں نے 2008 کی فلم ہلہ بول میں مختصر کردار بھی ادا کیا۔

سیاسی حمایت اورCBFC میں شمولیت

2014 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل نہلانی اس وقت خبروں میں آئے جب انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت میں پروموشنل گیت "ہر ہر مودی، گھر گھر مودی" تیار کیا۔جنوری 2015 میں انہیں مرکزی فلم سرٹیفیکیشن بورڈ (CBFC) کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ ان کی تقرری جلد ہی بحث کا موضوع بن گئی کیونکہ وہ فلمی سرٹیفکیشن اور سنسرشپ کے معاملے میں سخت موقف رکھتے تھے۔

CBFC دور کے دوران تنازعات

CBFC سربراہ کے طور پر نہلانی کا دور کئی بڑے تنازعات سے بھرا رہا۔ عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے فلم سرٹیفیکیشن کے لیے سخت اصول متعارف کرانے کی بات کی، جن میں گالی گلوچ، خواتین کے خلاف تشدد اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے مواد پر پابندیاں شامل تھیں۔
انہوں نے کئی فلموں اور ٹریلرز میں کٹ لگانے کے احکامات دیے، جس پر شدید تنقید ہوئی۔ ان میں جیمز بانڈ فلم اسپیکٹر میں بوس و کنار کے مناظر کو کم کرنا بھی شامل تھا۔
تاہم سب سے بڑا تنازع 2016 میں فلم اڑتا پنجاب  کی منظوری کے معاملے پر ہوا۔ نہلانی کی سربراہی میں سی بی  ایف سی  نے فلم میں کئی تبدیلیوں کی تجویز دی، جس کے بعد معاملہ عدالت تک پہنچا۔ آخرکار بمبئی ہائی کورٹ نے صرف ایک کٹ کے ساتھ فلم ریلیز کرنے کی اجازت دے دی۔
انہوں نے فلم جب ہیری میٹ سیجل کے ٹریلر میں لفظ "انٹرکورس" کے استعمال پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ بھارتی ناظرین ابھی اس طرح کی اصطلاحات کے لیے تیار نہیں ہیں۔

عوامی بیانات اور تنقید

اپنے دور میں نہلانی اکثر اپنے بیانات کی وجہ سے بحث میں رہے۔ انہوں نے فلموں میں سخت سنسرشپ کی حمایت کی اور گالی گلوچ کے خلاف آواز اٹھائی۔ انہوں نے ان فلموں کی ریلیز پر بھی سوال اٹھائے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ تنازع پیدا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا  کے طلبہ کے احتجاج پر بھی تنقید کی۔2015 میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے میوزک ویڈیو "میرا دیش مہان" تیار کی، جس پر اس وقت کافی بحث اور تنقید ہوئی۔

CBFC سے برطرفی

اگست 2017 میں نہلانی کو CBFC کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ گیت نگار اور اشتہاری شعبے سے وابستہ شخصیت پرسون جوشی کو مقرر کیا گیا۔ نہلانی نے بعد میں دعویٰ کیا کہ ان کی برطرفی فلم سرٹیفیکیشن کے فیصلوں پر اختلافات کی وجہ سے ہوئی۔سی بی ایف سی  چھوڑنے کے بعد وہ فلمی کاموں سے دوبارہ وابستہ ہوئے اور فلم جولی 2 کی ڈسٹریبیوشن  کے کام سے بھی منسلک رہے۔

حالیہ پیش رفت

2024 میں اداکارہ نکی انیجا نے الزام لگایا کہ 1993 میں فلم مسٹر آزاد کی شوٹنگ کے دوران نہلانی نے ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا تھا۔ ان الزامات کے بعد ایک بار پھر یہ تجربہ کار پروڈیوسر عوامی بحث میں آگئے۔