Saturday, January 17, 2026 | 28, 1447 رجب
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • یوگنڈا میں انتخابات کے دوران تشدد ،انٹرنیٹ کی بندش ، جمہوریت پر سوال؟

یوگنڈا میں انتخابات کے دوران تشدد ،انٹرنیٹ کی بندش ، جمہوریت پر سوال؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 17, 2026 IST

یوگنڈا میں انتخابات کے دوران تشدد ،انٹرنیٹ کی بندش ، جمہوریت پر سوال؟
افریقی ملک یوگنڈا میں جمعرات کو انتخابات ہوئے۔ موجودہ صدر Yoweri Museveni اپنی 40 سالہ حکمرانی میں توسیع کے خواہاں تھے۔ ان کا مقابلہ مرکزی اپوزیشن لیڈر اور مقبول گلوکار بوبی وائن سے تھا۔ تاہم انتخابات منصفانہ اور پرامن نہیں ہوئے۔ 
 
ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی  تھی، کئی پولنگ  اسٹیشنوں پر بڑے پیمانے پر افراتفری دیکھنے میں آئی اور سکیورٹی فورسز کی بھاری موجودگی نے عام ووٹرز میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا۔ دارالحکومت کمپالا سمیت کئی علاقوں میں صورتحال کشیدہ رہی۔ حزب اختلاف اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ عمل کے بجائے کنٹرول اور دباؤ کے ماحول میں کرائے جا رہے ہیں۔اس نظام نے تشدد کو جنم دیا۔
 
میڈیا رپورٹس کے مطابق بوٹمبالا ضلع کے ایم پی، مووانگا کیوومبی نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے ان کے گھر پر حملہ کیا، جس میں انتخابی مہم کے 10 کارکن ہلاک ہوئے۔ کیومبی کی اہلیہ زہرا نمپیو نے بتایا کہ مہم کے 10 کارکن ایک گیراج میں چھپے ہوئے تھے جب سکیورٹی فورسز نے حملہ کیا۔ وہ کراس فائر میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
 
انٹرنیٹ کی بندش سے عوامی زندگی مفلوج، جمہوریت پر سوالات :
 
یوگنڈا میں گزشتہ کئی دنوں سے انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر بند ہیں۔ حکومت کا استدلال ہے کہ یہ قدم افواہوں، انتخابی بددیانتی اور تشدد پر اکسانے کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ لیکن حزب اختلاف اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش ووٹروں کی آواز کو دبانے اور انتخابی نگرانی کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ انٹرنیٹ بند ہونے سے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ بینکنگ، ڈیجیٹل ادائیگی اور ضروری مواصلاتی خدمات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ الیکشن والے دن اس طرح کی پابندیاں براہ راست ان کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہو ئی۔
 
ووٹنگ میں تاخیر اور مشین کی خرابی :
 
ووٹنگ صبح 7 بجے شروع ہونی تھی، لیکن دارالحکومت کمپالا سمیت کئی شہروں اور قصبوں میں ووٹنگ کا سامان وقت پر پہنچنے میں ناکام رہا۔ کئی پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ مشینوں میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی جس کے باعث لمبی قطاریں لگ گئیں۔ کمپالا میں ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر کھڑے عمرو مطیبہ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گھنٹوں انتظار کرنا انتہائی مایوس کن ہے۔ 
 
باب وائن کو انتخابات کے بعد گھر میں نظر بند کر دیا گیا:
 
حکومت نے انتخابی دھاندلی کے الزامات کے ساتھ ساتھ اپوزیشن لیڈر وائن کے خلاف بھی سخت کاروائی کی۔ وائن جیسے ہی ووٹ ڈالنے کے بعد گھر واپس آیا، فوج نے ان کے گھر کو گھیرے میں لے لیا اور نظر بند کر دیا۔ وائن کی پارٹی کے کچھ رہنما تو یہاں تک دعویٰ کر رہے ہیں کہ وائن کو فوج کے ہیلی کاپٹر میں زبردستی کسی نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے الزامات سامنے آ رہے ہیں اور موسیوینی کی جیت یقینی سمجھی جا رہی ہے۔
 
صدر موسیوینی آٹھویں بار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
 
 اس انتخابات میں 81 سالہ صدر موسیوینی مسلسل آٹھویں بار اقتدار کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہ 1986 سے یوگنڈا میں برسراقتدار ہیں اور انہیں افریقہ کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے رہنماؤں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ان کے خلاف کل سات امیدوار مقابلہ کر رہے ہیں، جن میں سب سے مشہور نام گلوکار سے سیاستدان بنے رابرٹ کیاگولانی (بوبی وائن) کا ہے۔ بوبی وائن طویل عرصے سے سیاسی تبدیلی کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں اور نوجوانوں میں ان کی مضبوط گرفت سمجھی جاتی ہے۔