Tuesday, April 28, 2026 | 10 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • مغربی بنگال دوسرے اور آخری مرحلے کی پولنگ کے لیے تیار۔ صبح 7 بجےسے پولنگ

مغربی بنگال دوسرے اور آخری مرحلے کی پولنگ کے لیے تیار۔ صبح 7 بجےسے پولنگ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 28, 2026 IST

مغربی بنگال دوسرے اور آخری مرحلے کی پولنگ کے لیے تیار۔ صبح 7 بجےسے پولنگ
مغربی بنگال میں دوسرےاورآخری مرحلے کے لئے بدھ29 اپریل  کو پولنگ ہوگی ۔  پولنگ عملہ اپنے اپنے پولنگ اسٹیشنوں کی جانب روانہ ہو گیا ہے ۔ بدھ کی صبح 7 بجے پولنگ شروع ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور پولنگ ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے دریا عبور کر کے اپنے متعلقہ پولنگ اسٹیشنوں  روانہ ہوگئے۔مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے پولنگ بوتھ تک جائیں اور ووٹ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو ووٹ دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا اور جہاں کہیں بھی تشدد کی اطلاع ملے گی وہاں فوری کارروائی کی جائے گی۔

پولنگ اسٹیشن کی تعداد 

29 اپریل کو دوسرے مرحلے میں جملہ  3,21,73,837 ووٹرز، جن میں 1,64,35,627 مرد، 1,57,37,418 خواتین اور 792 تیسری جنس کے ووٹرز شامل ہیں، اپنا ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے  پولنگ کےلئے 41,001  اسٹیشنوں  تیار کئے ہیں، سب کو ویب کاسٹ کیا جائے گا۔

1,448 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں

ان 142 اسمبلی حلقوں کے لیے کل 1,448 امیدوار میدان میں ہیں، جو 29 اپریل کو دوسرے مرحلے میں انتخابات میں حصہ لیں گے۔مرد امیدواروں کی تعداد 1,228 ہے، جب کہ خواتین امیدواروں کی تعداد 220 ہے۔ ایک بھی تیسری جنس کا امیدوار نہیں ہے۔29 اپریل کو ہونے والے 142 اسمبلی حلقوں میں سے 107 عام زمرہ کے ہیں، جب کہ 34 حلقے درج فہرست ذات (ایس سی) کے لیے اور ایک درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے ریزرو ہے۔

 پولنگ کےلئے سیکوریٹی کےانتظامات 

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے سات اضلاع میں مرکزی فورسز کی 2,321 کمپنیاں تعینات کرتے ہوئے وسیع حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ 142 جنرل مبصر، 95 پولیس مبصر اور 100 ایکسپینڈیچر آبزرور تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ پولنگ کے عمل کی نگرانی کے لیے کیمرے لگے ہوئے ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ مرکزی فورسز کی 273 کمپنیوں کے ساتھ کولکتہ میں سب سے زیادہ تعیناتی ہے۔

کس حلقہ میں ہیں سب سے زیادہ امیدوار 

جن حلقوں میں پولنگ ہو رہی ہے، ان میں بھنگر میں سب سے زیادہ 19 امیدوار ہیں، جبکہ گوگھاٹ میں سب سے کم پانچ امیدوار ہیں۔ کلیدی سیٹوں میں بھبانی پور، جہاں بنرجی بی جے پی لیڈر سویندو ادھیکاری کے خلاف دوبارہ الیکشن لڑ رہی ہیں، کولکتہ پورٹ، جہاں فرہاد حکیم میدان میں ہیں، اور بھٹپارہ، جگتدل اور بیرک پور کی صنعتی پٹی کے حلقے شامل ہیں۔ دیگر اہم سیٹوں میں بنگاؤں، دم دم، سندیشکھلی، ہنگل گنج، راناگھاٹ اتر اور دکشن، راش بہاری، جاداو پور اور بالی گنج شامل ہیں۔
 
 ان اضلاع میں ہوگی پولنگ
دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے والے اسمبلی حلقوں میں آٹھ انتخابی اضلاع شامل ہیں جن میں کولکاتہ شمالی، کولکتہ جنوبی، ہاوڑہ، نادیہ، شمالی 24 پرگنہ، جنوبی 24 پرگنہ، ہگلی اور پوربا بردھمان شامل ہیں۔

 سی آر پی ایف کا  مارچ 

سی آر پی ایف نے بھی علاقے میں روٹ مارچ کیا اور مقامی لوگوں کو بغیر خوف کے ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی تاکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب کولکتہ پولیس نے سرسونا تھانہ حدود میں ایک موٹر سائیکل سوار سے چار لاکھ روپے کی غیر حساب شدہ رقم ضبط کی۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی انتخابی ضابطوں کے تحت کی گئی اور مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس نے ٹریفک کے حوالے سے بھی تفصیلی ہدایات جاری کی ہیں جس کے تحت 28 اور 29 اپریل اور 4 مئی کو مال بردار گاڑیوں پر پابندی عائد کیگئی ہے۔ جبکہ کئی اہم سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت محدود یا متبادل راستوں پر منتقل کی جائے گی۔

 پولنگ اسٹیشن کےقریب امتناعی احکامات 

حکام کے مطابق پولنگ اسٹیشن کے سو میٹر کے دائرے میں صرف ووٹرز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ موبائل فون بوتھ کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے دوران انتخابی ڈیوٹی کے علاوہ کسی بھی گاڑی کو کاؤنٹنگ سینٹرز کے قریب جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

بنگال میں سیاسی کشمکش 

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات میں ایک نیا رخ سامنے آ رہا ہے جہاں روایتی دو جماعتی مقابلے کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔کئی برسوں سے ریاست کی سیاست ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان سخت مقابلے تک محدود رہی ہے لیکن اب کانگریس اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ایک متبادل سیاسی راستہ پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

 عوام کو ایک نیا راستہ درکار 

کولکاتا میں کانگریس کے ریاستی انچارج غلام احمد میر نے کہا کہ 2016 اور 2021 کے انتخابات میں ووٹروں کو دانستہ طور پر دو جماعتوں کے درمیان محدود کر دیا گیا تھا جس کے باعث کسی تیسرے متبادل کے لیے جگہ نہیں بچی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور ترنمول کانگریس کی جانب سے اختیار کی گئی پولرائزیشن کی سیاست اب اپنی تاثیر کھو چکی ہے اور عوام کو ایک نیا راستہ درکار ہے۔ ان کے مطابق کانگریس خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ایک بہتر متبادل کے طور پر سامنے آئی ہے اور ووٹروں کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔

مجلس کو مثبت پذیرائی ملنے کا دعویٰ

دوسری جانب ممبئی سے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما وارث پٹھان نے بھی مغربی بنگال میں پارٹی کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی مہم کو عوام کی مثبت پذیرائی مل رہی ہے اور پہلے مرحلے میں اچھی ووٹنگ کے بعد انہیں مزید کامیابی کی امید ہے۔اے آئی ایم آئی ایم کو امید ہے کہ وہ روایتی سیاسی قلعوں میں اثر انداز ہو کر انتخابی نتائج میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

4 مئی کو ووٹوں کی گنتی 

واضح رہے کہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں ریاست میں تقریباً 91.78 فیصد ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا جبکہ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 29 اپریل کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔