Sunday, March 01, 2026 | 11 رمضان 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • خامنہ‌ای کے بعد کون ہوگا ایران کا نیا سپریم لیڈر؟ دو نام زیر بحث

خامنہ‌ای کے بعد کون ہوگا ایران کا نیا سپریم لیڈر؟ دو نام زیر بحث

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Mar 01, 2026 IST

خامنہ‌ای کے بعد کون ہوگا ایران کا نیا سپریم لیڈر؟ دو نام زیر بحث
ایران پر امریکہ اسرائیل حملے جاری ہیں۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کا دعویٰ کیا تھا۔ اب کئی ایرانی میڈیا اداروں نے بھی سپریم لیڈر کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خامنہ ای کی موت کے بعد ایران میں اقتدار کون سنبھالے گا؟ ایرانی آئین کے اصول ولایت فقیہ کے مطابق سپریم لیڈر کا منصب صرف ایک جید مذہبی فقیہ کو دیا جا سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق علی خامنہ‌ای نے اپنی زندگی میں کسی واضح جانشین کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا۔
 
خامنہ‌ای کے بعد ممکنہ جانشین
 
موجودہ حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے لیے دو نام زیادہ زیرِ بحث ہیں۔ ایک نام مجتبیٰ خامنہ‌ای کا لیا جا رہا ہے، جو علی خامنہ‌ای کے صاحبزادے ہیں، جبکہ دوسرا نام ایران کے بانی Ruhollah Khomeini کے پوتے حسن خمینی کا سامنے آ رہا ہے۔
 
غیر ملکی خبر رساں ادارےکے مطابق اس وقت کسی بھی شخصیت کے پاس علی خامنہ‌ای جیسا اختیار اور اثر و رسوخ موجود نہیں ہے۔ اسی لیے جو بھی نیا سپریم لیڈر منتخب ہوگا، اس کے لیے طاقتور ریاستی اور مذہبی اداروں پر مؤثر کنٹرول قائم کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
 
ایران میں سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار مجلسِ خبرگان کے پاس ہوتا ہے، جس میں 88 سینئر علما شامل ہوتے ہیں۔ یہی مجلس باضابطہ طور پر نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے، تاہم پسِ پردہ اصل اثر و رسوخ اُن بااثر حلقوں کے پاس سمجھا جاتا ہے جو ریاستی نظام کو عملی طور پر چلاتے ہیں۔
 
اسلامی انقلابی گارڈ کور کا کردار
 
اسلامی انقلابی گارڈ کور Islamic Revolutionary Guard Corps ایران کی منتخب حکومت کے دائرۂ اختیار سے بالاتر کام کرتا ہے اور براہِ راست سپریم لیڈر کو جواب دہ ہوتا ہے۔ یہ ملک کی سب سے طاقتور اور جدید فوجی شاخ تصور کی جاتی ہے۔
 
رائٹرز کے مطابق حالیہ حملوں میں انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر محمد پاکپور بھی مارے گئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے مستقبل کے تعین میں انقلابی گارڈ کور کا کردار نہایت اہم ہوگا۔
 
ایران کے موجودہ صدر مسعود پیزشکیان کو نسبتاً اعتدال پسند رہنما سمجھا جاتا ہے، تاہم موجودہ غیر یقینی حالات میں ان کی پوزیشن واضح نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں ایران کی سیاست میں انقلابی گارڈز کا کردار سب سے زیادہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔