امریکی اور اسرائیلی حملہ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت اور ایران پر بے وجہ حملہ کو لیکرسابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی روایتی خارجہ پالیسی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور حکومت اب اپنی مرضی سے فیصلے نہیں لے پا رہی۔ ایران-امریکہ تنازع اور اسرائیل-غزہ معاملے پر بھارت کا موقف غیر واضح کیوں؟
سلمان خورشید نے روس سے تیل خریدنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے 30 دن کی اجازت دی ہے۔ یہ آزادی نہیں، ہتھیار ڈالنا ہے۔ انہوں نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ غزہ میں معصوم بچوں کی موت پر خاموشی کیوں؟ انہوں نے پی ایم مودی کے اسرائیل دورے پر سوال اٹھائے، حملہ ہونے پر وہاں تھے، کیا چھوٹ کا اشارہ دیا؟ سلمان خورشید نے کہا کہ ایک سچا دوست غلط کو غلط کہتا ہے۔ اٹل جی نے چین-ویتنام جنگ پر دورہ درمیان میں چھوڑ دیا تھا، لیکن مودی حکومت میں وہ ہمت نہیں بچی۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے گزشتہ ہفتہ (28 فروری) کو ایران پر حملہ کیا، جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت ہو گئی۔ اس حملے میں خامنئی کے ساتھ ان کے خاندان کے افراد اور 14 ماہ کی نواسی کی موت ہو گئی۔ ایران میں اب تک 1331 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ ادھر، ایران بھی جوابی کارروائی کر رہا ہے اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔