امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے متعدد رپورٹس آرہی ہے۔جس میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ جنگ کے جلد ختم ہونے کے امکانات ہیں۔ نیوز بائٹس کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کی توانائی کی سہولیات پر 5 دن تک حملے روکنے کے فیصلے کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف جاری جنگ ختم کرنے کے لیے 9 اپریل کی ممکنہ تاریخ طے کی ہے۔ اس کے علاوہ اس معاہدہ کی بات چیت پاکستان میں ہونے کا امکان بتایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی اہلکار نے کیا کہا؟
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی اخبار یدیوت اہرونوت نے ایک نامعلوم سرکاری اہلکار کے حوالے سے لکھا:واشنگٹن نے جنگ ختم کرنے کے لیے 9 اپریل کی تاریخ طے کر دی ہے، جس سے لڑائی اور بات چیت جاری رکھنے کے لیے تقریباً 21 دن کا وقت مل جائے گا۔9 اپریل کو جنگ ختم ہونے سے امریکی صدر ٹرمپ کو آزادی کے دن کے موقع پر اسرائیل پہنچنے اور اسرائیل ایوارڈ حاصل کرنے کا موقع بھی مل جائے گا۔
کیا پاکستان میں ہوگی امریکہ-ایران معاہدہ بات چیت؟
نیوز بائٹس نے دی ٹائمز آف اسرائیل کے حوالے سے لکھا کہ:دی ٹائمز آف اسرائیل نے ایک نامعلوم اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ثالثی کرنے والے ممالک اسی ہفتے کے آخر میں امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک میٹنگ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، ان بات چیت یا امریکہ کے ایرانی پارلیمنٹ کے صدر محمد باقر قالیباف کے ساتھ مبینہ رابطوں کے بارے میں اسرائیل کو کوئی معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ قالیباف نے اس میں ملوث ہونے سے سختی سے انکار کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا، یہ حساس معاملہ ہے :
دوسری طرف، امریکی وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوِٹ نے کہا کہ ان خبروں پر فی الحال کچھ بھی ٹھوس نہیں کہا جا سکتا جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امن مشن کے لیے صدر کے خصوصی ایلچی سٹیون وِٹکوف اور صدر ٹرمپ کے سابق سینئر مشیر جیرڈ کشنراسلام آباد میں ایرانی اہلکاروں سے ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حساس سفارتی بات چیت ہیں اور امریکہ میڈیا کے ذریعے بات چیت نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے حملے روکنے کا اعلان کیا :
اس سے پہلے پیر کو ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا:مجھے خوشی ہے کہ پچھلے دو دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان باہمی دشمنی ختم کرنے کے حوالے سے بہت اچھی اور معنی خیز بات چیت ہوئی ہے۔ ان گہری، تفصیلی اور تخلیقی بات چیت کو دیکھتے ہوئے میں نے جنگ کے محکمے کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کے توانائی مراکز اور توانائی کے ڈھانچے پر 5 دن کے لیے تمام حملے ملتوی کر دیں۔ یہ فیصلہ جاری میٹنگوں اور بات چیت کی کامیابی پر منحصر کرے گا۔
معاہدے کے بارے میں ٹرمپ نے کیا کہا؟
حملے روکنے کے اعلان کے بعد ٹرمپ نے کہا:ہم نے ایران کے ساتھ بہت مضبوط بات چیت کی ہے۔ اگر وہ اپنے وعدے پورے کریں تو تنازع ختم ہو جائے گا۔ ہم دونوں معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا:امریکہ ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین شخص سے بات کر رہا ہے، لیکن وہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ عزت والے اور لیڈر ہیں۔ ہم نے سب کو درمیان سے ہٹا دیا ہے۔ جلد ہی معنی خیز نتائج سامنے آئیں گے۔
ایران نے بات چیت کی خبروں کو جعلی قرار دیا :
ٹرمپ کے بیان کے برعکس ایران نے بات چیت کی تمام خبروں کو مکمل طور پر جعلی قرار دے دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے صدر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا:امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ مالیاتی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کرنے اور اس دلدل سے بچنے کے لیے جعلی خبروں کا استعمال کیا جا رہا ہے جس میں امریکہ اور اسرائیل پھنسے ہوئے ہیں۔ ایرانی عوام حملہ آوروں کو مکمل اور افسوسناک سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔