• News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • کیا پارلیمنٹ اور اسمبلی سیٹوں میں اضافہ کے فیصلہ کا تلگوریاستوں پر پڑے گا اثر؟

کیا پارلیمنٹ اور اسمبلی سیٹوں میں اضافہ کے فیصلہ کا تلگوریاستوں پر پڑے گا اثر؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Mar 24, 2026 IST

کیا پارلیمنٹ اور اسمبلی سیٹوں میں اضافہ کے فیصلہ کا تلگوریاستوں پر پڑے گا اثر؟
مرکزی حکومت نے ملک کی تمام ریاستوں میں لوک سبھا اور اسمبلی سیٹوں کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے مطابق لوک سبھا کی نشستیں 543 سے بڑھ کر 816 ہو جائیں گی۔ وہیں آندھرا پردیش میں اسمبلی حلقوں کی تعداد بڑھ کر 263 اور تلنگانہ میں 179 ہو جائے گی۔ مرکز 2029 کے انتخابات سے حلقوں کی حد بندی کو موثر بنانے کے لیے ایک بل لانے کی تیاری کر رہا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ بل پارلیمنٹ کے رواں اجلاس میں پیش کرنے کیلئے تیار ہے۔ اس کے مطابق لوک سبھا کی سیٹیں 543 سے بڑھ کر 816 ہو جائیں گی۔
 
 ملک میں اسمبلی سیٹوں کی تعداد 4,123 سے بڑھ کر 6,185 ہو جائے گی۔ آندھرا پردیش میں موجودہ 175 ایم ایل اے کی سیٹیں بڑھ کر 263 ہو جائیں گی اور تلنگانہ میں موجودہ 119 اسمبلی سیٹیں بڑھ کر 179 ہو جائیں گی۔ اے پی میں لوک سبھا سیٹوں کی تعداد 25 سے بڑھ کر 38اور تلنگانہ میں 17 سے بڑھ کر 26 ہونے کا امکان ہے۔ مرکز نے پیر کی شام این ڈی اے کی ایک میٹنگ میں یہ بات بتائی ہے۔ اس میٹنگ کی صدارت مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اور وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے کی۔ غیر کانگریسی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ایک الگ میٹنگ بھی کی گئی۔ امیت شاہ کی کانگریس سے بھی بات کرنے کا امکان ہے۔
 
اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کی تعداد بڑھانے کیلئے آئین میں کچھ ترامیم کرنی ہوں گی۔ اس کیلئے بتایا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ کے اس سیشن میں خواتین کے ریزرویشن ایکٹ اور حد بندی ایکٹ میں پیشگی ترامیم کی تجویز دینے والے بل لائے جائیں گے۔ اس سے متعلق بل لوک سبھا میں پاس ہونے کے بعد مرکزی حکومت حد بندی کمیشن تشکیل دے گی۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس عمل کو 2029 کے انتخابات میں مکمل کر کے لاگو کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی اطلاع ہے کہ سیٹوں میں اضافے کے تناسب سے ایس سی اور ایس ٹی کے تحفظات میں بھی اضافہ ہوگا۔