• News
  • »
  • صحت
  • »
  • موسم سرما میں دمہ: پوشیدہ محرکات اور روک تھام

موسم سرما میں دمہ: پوشیدہ محرکات اور روک تھام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 17, 2026 IST

موسم سرما میں دمہ: پوشیدہ محرکات اور روک تھام
سردیوں کا موسم جہاں خوشگوار ٹھنڈ اور تہواروں کی خوشیاں لاتا ہے، وہیں دمہ (Asthma) کے مریضوں کے لیے کئی چیلنجز بھی کھڑے کر دیتا ہے۔ جیسے ہی درجۂ حرارت گرتا ہے، بہت سے افراد کو سانس لینے میں دشواری، سینے میں جکڑن اور کھانسی کی شکایت ہونے لگتی ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو پہلے ہی دمہ کا شکار ہوں، سردیوں میں زیادہ محتاط رہنے کے محتاج ہوتے ہیں۔ڈاکٹر سید عبدالعلیم، سینئر پلمونولوجسٹ، گرونانک، کیئر ہاسپٹلس - مشیرآباد، حیدرآباد۔  نے سردیوں میں دمہ:پوشیدہ محرکات، بڑھتے ہوئے حملے اور روک تھام کے آسان نکات" کے موضوع پر گفتگو کی۔

دمہ كیا ہے،اور كیوں ہوتا ہے؟

 سینئر پلمونولوجسٹ ۔ڈاکٹر سید عبدالعلیم، کے مطابق دمہ دراصل سانس کی نالیوں کی ایک دائمی بیماری ہے جس میں ہوا کی نالیاں حساس اور سوجن کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جب کوئی الرجی پیدا کرنے والا عنصر (Trigger) جسم میں داخل ہوتا ہے تو یہ نالیاں حد سے زیادہ ردِعمل ظاہر کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں سانس پھولنا، سینے سے سیٹی جیسی آواز آنا (Wheezing)، سینے میں جکڑن اور مسلسل کھانسی جیسے علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

سردیوں میں دمہ کیوں بڑھ جاتا ہے؟

سردیوں میں دمہ کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ٹھنڈی اور خشک ہوا ہے، جو سانس کی نالیوں میں جلن اور سوزش پیدا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ لوگ زیادہ تر بند کمروں میں رہتے ہیں، جہاں ہوا کی آمدورفت کم ہوتی ہے۔ اس ماحول میں وائرل انفیکشنز تیزی سے پھیلتے ہیں، جو دمہ کے حملوں کو بھڑکا سکتے ہیں۔

كیا نقصان دہ ہوسكتا ہے

ہیٹرز اور وارمرز کا استعمال بھی ہوا کو مزید خشک بنا دیتا ہے، جو دمہ کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ گھروں میں قالین، اون کے کپڑے، گرد و غبار اور ہاؤس ڈسٹ مائٹس بھی سردیوں میں زیادہ مسئلہ بن جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلی یا کتے کے بالوں میں موجود مائیکروسکوپک پروٹینز بھی دمہ کے لیے طاقتور الرجین ثابت ہو سکتے ہیں۔

آلودگی اور دھواں بھی بڑا خطرہ

سردیوں میں فضائی آلودگی، کچرا جلانے کا دھواں، سگریٹ نوشی اور حتیٰ کہ اگر بتی یا لوبان کا دھواں بھی دمہ کے حملے کو بڑھا سکتا ہے۔ بعض علاقوں میں سردی سے بچنے کے لیے جلائی جانے والی آگ یا انگیٹھیاں بھی سانس کے مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔
وائرل انفیکشن اور رات کے اوقات میں علامات
نزلہ، زکام اور فلو جیسے وائرل انفیکشن سانس کی نالیوں میں سوزش بڑھا دیتے ہیں، جس سے دمہ قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔ اکثر مریض رات یا علی الصبح علامات میں شدت محسوس کرتے ہیں، کیونکہ اس وقت ٹھنڈی ہوا اور لیٹنے کی پوزیشن میں بلغم نیچے کی نالیوں میں جمع ہو جاتا ہے۔

انہیلر: خوف نہیں، درست علاج

دمہ کے علاج میں انہیلر بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کنٹرولر انہیلر کو باقاعدگی سے استعمال کرنا نہایت ضروری ہے، چاہے علامات وقتی طور پر کم ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ خود سے دوا چھوڑ دینا ایک عام مگر خطرناک غلطی ہے، کیونکہ اس سے مستقبل میں شدید دمہ اور سانس کی نالیوں کو مستقل نقصان (Airway Remodeling) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہیلر کے ذریعے دی جانے والی دوا براہِ راست پھیپھڑوں تک پہنچتی ہے اور اس کے مضر اثرات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔

بچوں اور بزرگوں کے لیے خصوصی احتیاط

بچوں میں دمہ زیادہ عام ہے کیونکہ ان کی قوتِ مدافعت مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتی۔ والدین کو چاہیے کہ بچے کو انہیلر کے صحیح استعمال کی تربیت دیں، اسکول ٹیچرز کو آگاہ کریں اور ایمرجنسی انہیلر اسکول بیگ میں ضرور رکھیں۔ بزرگ افراد اور کمزور مدافعت والے لوگوں کے لیے فلو ویکسین بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

احتیاطی تدابیر

دمہ کے مریض سردیوں میں ٹھنڈی ہوا سے بچیں، باہر نکلتے وقت ماسک یا اسکارف استعمال کریں، بند کمروں میں مناسب وینٹیلیشن رکھیں، الرجین سے دور رہیں اور ڈاکٹر کے مشورے سے علاج جاری رکھیں۔ یاد رکھیے، دمہ کو نظر انداز نہیں بلکہ سمجھداری سے مینیج کرنا ضروری ہے۔
صحیح آگاہی، باقاعدہ علاج اور تھوڑی سی احتیاط کے ساتھ دمہ کے مریض بھی سردیوں کے موسم کو بغیر خوف کے انجوائے کر سکتے ہیں، کیونکہ صحت ہی اصل دولت ہے۔