بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے پاکستان کو ایک ’برا پڑوسی‘ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کو اپنے لوگوں کو دہشت گردی سے بچانے کا حق حاصل ہے اور وہ اس حق کا استعمال کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو آئی آئی ٹی مدراس کے طلباء سے خطاب کےدوران کیا۔
ہم اپنے حق کو استعمال کرتے ہیں
ایس جے شنکرنے بالواسطہ طور پر گزشتہ سال پہلگام میں لشکر طیبہ سے وابستہ دہشت گرد گروپ دی ریزسٹنس فرنٹ کے حملے کے بعد بھارت کے "آپریشن سندور" کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنے حق کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ کوئی ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ ہم اپنی حفاظت کے لیے جو کچھ بھی کرنا ہے وہ کریں گے۔" انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان جان بوجھ کر اور بغض و عناد سے دہشت گردی کا ارتکاب کر رہا ہے۔
سندھ آبی معاہدےا ظہار خیال
جے شنکر نے سندھ آبی معاہدے کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ہم نے کئی سال پہلے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ لیکن جب ہمیں کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا سامنا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے اچھے ہمسائیگی کے تعلقات نہیں ہیں۔ جب اچھے تعلقات نہیں ہیں تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میرے ساتھ پانی بانٹیں، لیکن میں آپ کے خلاف دہشت گردی جاری رکھوں گا"۔ بتایا جارہا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد یہ معاہدہ معطل ہو گیا تھا۔
بھارت کےمسائل کی ذمہ دار پاک فوج
جے شنکر نے گزشتہ ماہ تبصرہ کیا تھا کہ بھارت کو درپیش کئی مسائل کی ذمہ دار پاکستانی فوج ہے۔ معلوم ہوا کہ اچھے دہشت گرد بھی ہوتے ہیں اور برے دہشت گرد بھی۔ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر پر بالواسطہ تبصرہ کیا گیا، اچھے فوجی لیڈر ہیں اور اتنے اچھے نہیں۔
حالیہ کشیدگی کےپس منظر میں تبصرہ
جے شنکر کا یہ تبصرہ حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں آیا ہے جس میں پاکستان سے منسلک گروہوں کے دہشت گردانہ حملوں کا سراغ لگایا گیا ہے، جن پر بھارت نے بار بار بار تنقید کی ہےاور سرحد پار سے عسکریت پسندی سے منسلک ہے۔ نئی دہلی نے حالیہ برسوں میں ایک زیادہ غیر سمجھوتہ کرنےوالا موقف بھی اپنایا ہے۔
بنگلہ دیش میں حالت بہتر ہونے کی امید
بنگلہ دیش میں وزیر نےا مید ظاہر کی کہ ملک کےانتخابات کے بعد ہنوے والی سیاسی پیش رفت سےتعلقات اور علاقائی تعاون کو مزید تقیت ملےگی ۔ بھارت اور بنگلہ دیش پہلے سے ہی ارابے ، تجارت اور سیکورٹی کےمسائل پر مل کر کام کررہےہیں۔ اور ڈھاکہ بھارت کےوسیع تر ہند۔بحر الکاہل اور پڑوس کی مشغولیت کی حکمت عملیوں میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔