Monday, November 02, 2026 | 21 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • حیدرآباد ہائی ٹیک میراتھن میں افسوسناک واقعہ، فل میراتھن مکمل کرنے کے بعد رنر کی موت

حیدرآباد ہائی ٹیک میراتھن میں افسوسناک واقعہ، فل میراتھن مکمل کرنے کے بعد رنر کی موت

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 02 Nov 2026

حیدرآباد ہائی ٹیک میراتھن میں افسوسناک واقعہ، فل میراتھن مکمل کرنے کے بعد رنر کی موت
فل میراتھن مکمل کرنے اور میڈل حاصل کرنے کے بعد گوپی کومینی اچانک گر پڑے
اسپتال میں صبح 8:45 بجے ڈاکٹروں نے مردہ قرار دیا
 
حیدرآباد کے گچی باؤلی اسٹیڈیم میں اتوار کی صبح حیدرآباد ہائی ٹیک میراتھن کے دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں فل میراتھن مکمل کرنے کے فوراً بعد 36 سالہ سافٹ ویئر انجینئر کی موت ہوگئی۔ متوفی کی شناخت گوپی کومینی کے طور پر ہوئی ہے، جو آئی بی ایم میں انجینئر تھے اور مانی کونڈہ کی الکاپور کالونی میں رہتے تھے۔
 
گوپی نے اتوار کوگچی باؤلی اسٹیڈیم میں این ای بی کے زیر اہتمام منعقدہ میراتھن میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے کامیابی کے ساتھ دوڑ مکمل کی اور میڈل بھی حاصل کیا۔ لیکن ناشتہ کرنے کے لیے جاتے ہوئے اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ زمین پر گر پڑے۔ موقع پر موجود افراد نے انہیں فوری طور پر قریبی کیئر اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے صبح تقریباً 8 بج کر 45 منٹ پر انہیں مردہ قرار دے دیا۔ ابتدائی طور پر دل کا دورہ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
 
کئی برسوں سے رننگ کر رہے تھے گوپی
 
گوپی کومینی گزشتہ کئی برسوں سے رننگ کر رہے تھے اور حیدرآباد کے الکاپور رنرز گروپ کے ساتھ باقاعدگی سے پریکٹس کرتے تھے۔ وہ اس سے پہلے کئی ہاف میراتھن اور فل میراتھن میں حصہ لے چکے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ ہفتے 24 تاریخ کو بھی انہوں نے 50 کلومیٹر کی دوڑ مکمل کی تھی۔ ان کی اچانک موت نے حیدرآباد کی رننگ کمیونٹی کو گہرے صدمے میں ڈال دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے پیچھے تقریباً ڈیڑھ سال کا ایک کم عمر بچہ بھی چھوڑ گئے ہیں۔
 
میراتھن کے طبی انتظامات پر سوالات
 
اس واقعے کے بعد میراتھن میں موجود بعض افراد نے طبی سہولتوں اور ہنگامی انتظامات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اتنے بڑے کھیلوں کے ایونٹ میں مکمل طبی ٹیم موجود نہیں تھی۔ ان کے مطابق، موقع پر ایمبولینس تو دستیاب تھی، لیکن اس میں ضروری طبی سامان کی کمی تھی۔ لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب سیکڑوں افراد طویل فاصلے کی دوڑ میں حصہ لیتے ہیں تو ان کی حفاظت کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم، ضروری طبی آلات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے مناسب انتظامات کیوں نہیں کیے جاتے؟گوپی کی موت نے ایک بار پھر بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں کھلاڑیوں اور شرکا کی طبی حفاظت اور فوری طبی امداد کے انتظامات کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔