سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اور اتر پردیش کے سابق وزیر ،اعظم خان کے خلاف منی لانڈرنگ سے متعلق معاملے میں غازی آباد کی پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ، یعنی پی ایم ایل اے، عدالت میں اتوار کو اہم پیش رفت ہوئی، جب عدالت نے سماعت کے بعد انہیں 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم صادر کیا۔ عدالت کے فیصلے کے تحت اعظم خان کو غازی آباد کی ڈاسنا جیل منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں وہ عدالتی تحویل میں رہیں گے، جبکہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، یعنی ای ڈی، ان کی ریمانڈ کے لیے الگ سے درخواست دائر کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
سماعت کے دوران ای ڈی کے وکیلوں نے عدالت کے سامنے یہ موقف اختیار کیا کہ جوہر یونیورسٹی سے وابستہ فنڈنگ اور مالی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جامع جانچ کے لیے اعظم خان سے حراستی پوچھ گچھ ناگزیر ہے۔ ایجنسی کے مطابق یونیورسٹی کے لیے جمع شدہ رقوم اور مختلف ذرائع سے آنے والے فنڈز کے لین دین میں تضادات کی نشان دہی ہوئی ہے، جس کے سراغ کے لیے منی ٹریل کو تفصیل سے کھنگالنا درکار ہے۔ ای ڈی نے یہ بھی کہا کہ ریکارڈ، اکاؤنٹس اور متعلقہ دستاویزات سے تعلق سے چند سوالات کے جواب صرف ملزم سے براہ راست تفتیش کے ذریعے حاصل ہو سکتے ہیں، اس لیے پولیس حراست ضروری ہے۔
’آج تک‘ کی ایک رپورٹ میں ای ڈی کے ذرائع کے متعلق بتایا گیا کہ تحقیقاتی ایجنسی اگلے ایک یا دو دن میں غازی آباد کی پی ایم ایل اے عدالت میں باقاعدہ طور پر ریمانڈ کی درخواست جمع کرا سکتی ہے۔ اگر عدالت حراستی ریمانڈ منظور کر لیتی ہے تو ای ڈی اعظم خان کو لکھنؤ لے جا کر مزید پوچھ گچھ کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ ریاستی دارالحکومت میں موجود متعلقہ دفاتر، ریکارڈ مراکز اور گواہوں تک فوری رسائی کے ساتھ تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ فی الحال عدالتی حکم کے تحت اعظم خان 14 دن تک جیل میں عدالتی تحویل میں رہیں گے، جس کے دوران ریمانڈ کی سماعت متوقع ہے۔
ای ڈی نے عدالت کو اپنے ابتدائی دلائل میں جو نکات پیش کیے، ان میں مبینہ طور پر فنڈز کے غلط استعمال، اہلکاروں اور وابستہ فلاحی ٹرسٹوں کے درمیان رقوم کی ادلا بدلی، اور اس پورے مالی نیٹ ورک کے ممکنہ بینیفیشریز کی نشان دہی جیسے امور شامل تھے۔ ایجنسی نے بتایا کہ منی ٹریل کی ابتدائی جانچ سے ایسے لین دین سامنے آئے ہیں جن کی بنیاد، مقصد اور دستاویزی توثیق پر سوال اٹھتے ہیں۔ ای ڈی کے مطابق انہی شواہد اور حقائق کی بنیاد پر اعظم خان کی 14 دن کی حراست کی استدعا کی گئی تھی، تاکہ پوچھ گچھ کے ذریعے رقوم کے اصل ماخذ، منتقلی کے طریقہ کار اور استعمال کی نوعیت کو واضح کیا جا سکے۔
عدالت نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد تاحال ای ڈی کی پولیس ریمانڈ منظور نہیں کی اور آئندہ تاریخ تک کے لیے عدالتی تحویل کا حکم جاری کیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ معمول کا مرحلہ ہے جس میں عدالت پہلے ملزم کو عدالتی تحویل میں رکھ کر ریکارڈ کا جائزہ لیتی ہے، پھر تفتیشی ضرورت کے معیار پر ریمانڈ کی درخواست کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں جیل انتظامیہ نے حفاظتی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق ملزم کی منتقلی کے انتظامات کر لیے ہیں، جبکہ دفاعی وکیلوں نے کہا ہے کہ وہ آئندہ تاریخ پر ای ڈی کی کسی بھی ریمانڈ درخواست کی سخت مزاحمت کریں گے اور اپنے دلائل کے ساتھ عدالت کو آگاہ کریں گے۔
پس منظر کے طور پر بتایا جاتا ہے کہ جوہر یونیورسٹی کے قیام اور توسیع سے متعلق مالی ذرائع، عطیات، زمین کے معاملات اور ادارہ جاتی فنڈنگ عرصے سے تنازعہ کا موضوع رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں انتظامیہ اور نگرانی کرنے والے محکموں نے حسابات کے آڈٹ اور کاغذات کی جانچ کے لیے نوٹسز جاری کیے، جن کے نتیجے میں کچھ معاملات تفتیشی ایجنسیوں تک پہنچے۔






