Monday, November 02, 2026 | 21 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • فاروق عبداللہ کا الیکشن رولز کی خصوصی نظرثانی پر سوال: "یوپی میں حذف کیے گئے ہندو ووٹر بھی کیا پاکستانی ہیں؟"

فاروق عبداللہ کا الیکشن رولز کی خصوصی نظرثانی پر سوال: "یوپی میں حذف کیے گئے ہندو ووٹر بھی کیا پاکستانی ہیں؟"

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 01 Nov 2026

فاروق عبداللہ کا الیکشن رولز کی خصوصی نظرثانی پر سوال: "یوپی میں حذف کیے گئے ہندو ووٹر بھی کیا پاکستانی ہیں؟"
نئی دہلی میں رام لیلا میدان پر انڈیا بلاک کی بڑی عوامی ریلی میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے اتوار کو حکومت اور الیکشن مشینری پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ خصوصی انٹینسیو ریویژن کے دوران ووٹر لسٹوں سے جن لوگوں کے نام حذف کیے گئے انہیں "درانداز" قرار دینا غیر آئینی اور غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر اتر پردیش میں مبینہ طور پر ایک کروڑ سے زائد ہندو ووٹروں کے نام بھی کاٹے گئے ہیں تو کیا وہ بھی پاکستانی ہیں؟ یہ ریلی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے طور پر منعقد کی گئی تھی، جہاں اپوزیشن قائدین نے انتخابی شفافیت، شہری حقوق اور آئینی بالادستی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
 
فاروق عبداللہ نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر مسلمانوں کو مسلسل باہر والا ٹھہرا کر ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں، حالانکہ مسلمانوں نے بھی اس وطن کے لیے جانیں قربان کی ہیں۔ ان کے بقول انہوں نے اور ان کی برادری نے ملک کے لیے خون دیا ہے، پہلے بھی دیا، آج بھی دے رہے ہیں اور کل بھی دیں گے۔ ان کے مطابق یہ ملک ہم سب کا ہے اور ہم سب نے مل کر اسے مضبوط بنانا ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر تھا، ہے اور رہے گا ہندوستان کا حصہ، اور کوئی اسے ملک سے الگ نہیں کر سکتا۔ اپنی تقریر کا اختتام انہوں نے "جئے ہند" کے نعروں پر کیا۔
 
اپوزیشن کے اس اجتماع میں فاروق عبداللہ نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹوں میں کسی بھی بڑے پیمانے کی کٹوتی کی شفاف جانچ کی جائے اور یہ وضاحت دی جائے کہ کن بنیادوں پر نام حذف کیے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹ کی چوری جمہوریت کی روح پر حملہ ہے اور اس کی وجہ سے میں ایک طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا بنایا ہوا آئین ہے جو ہر شہری کو برابر کا درجہ دیتا ہے، ہر ووٹ برابر وزن رکھتا ہے، اور کسی ہندوستانی شہری کو حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خوفزدہ نہ ہوں کیونکہ طاقت عوام کے پاس ہے، اور ملک کو بچانے کے لیے اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔
 
اسی ریلی میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی خطاب کیا اور خبردار کیا کہ آئین کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے جس کے نتائج پہلے ہی جموں و کشمیر میں دیکھے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق 2019 میں جب آئین کی دفعہ 370 ختم کی گئی اور ریاست کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کیا گیا تو اس سے سیاسی و آئینی ڈھانچے کو گہرا نقصان پہنچا اور عوامی حقوق محدود ہوئے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر ملک بھر کے شہریوں نے ابھی آواز نہ اٹھائی تو پورے ملک کو جموں و کشمیر جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے ہر شہری کو اپنے جمہوری حق کے تحفظ کے لیے سرگرم ہونا ہوگا۔
 
محبوبہ مفتی نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا کہ قومی اثاثے ایک کارپوریٹ دوست کو منتقل کیے جا رہے ہیں جبکہ عام شہریوں، خاص طور پر غریب اور نوجوان طبقے کی ضروریات نظرانداز ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری زمینیں اونے پونے داموں پر کارپوریٹس کے حوالے کی جا رہی ہیں اور روزگار کے جو وعدے کیے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔