بنگلہ دیش کا انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل آج سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی برطرف حکومت کی جماعت عوامی لیگ کے سات سینئر رہنماؤں کے خلاف اہم فیصلہ سنانے جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب شیخ حسینہ سمیت کئی سابق حکومتی رہنماؤں کے خلاف 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران ہونے والے مبینہ جرائم کے مقدمات جاری ہیں۔
یہ ٹریبونل کا دوسرا بڑا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے تقریباً 10 ماہ قبل شیخ حسینہ کو ایک الگ مقدمے میں ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ جسٹس نذرالاسلام چودھری کی سربراہی میں تین رکنی ٹریبونل نے پیر کو مختصر حکم جاری کرتے ہوئے آج فیصلے کے اعلان کی تاریخ مقرر کی تھی۔ مقدمے میں عوامی لیگ کے کئی اہم رہنماؤں کو ملزم بنایا گیا ہے۔
سات رہنماؤں کے خلاف مقدمہ
مقدمے میں عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری عبیدالقادر، جوائنٹ جنرل سیکریٹری اے ایف ایم بہاؤالدین نسیم اور سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات محمد عرفات سمیت سات افراد شامل ہیں۔تمام ملزمان کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں مقدمے کی کارروائی مکمل کی گئی۔ چونکہ ملزمان عدالت میں موجود نہیں تھے، اس لیے ٹریبونل کی جانب سے مقرر کیے گئے سرکاری وکلا نے ان کی قانونی نمائندگی کی۔ مقدمے کی کارروائی کے دوران 2024 میں ہونے والی طلبہ تحریک کے دوران پیش آنے والے واقعات اور ان میں مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق الزامات کا جائزہ لیا گیا۔
جولائی تحریک اور شیخ حسینہ حکومت کا خاتمہ
یہ مقدمہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں شروع ہونے والے احتجاج سے متعلق ہے، جو بعد میں ملک گیر پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگیا تھا۔ بنگلہ دیش میں اس تحریک کو ’جولائی بغاوت‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر سیاسی بحران پیدا ہوا اور بالآخر 5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد عوامی لیگ کی حکومت کے کئی سابق وزرا اور سینئر رہنماؤں کے خلاف مختلف مقدمات شروع کیے گئے۔
انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں زیرِ سماعت مقدمے میں ساتوں رہنماؤں پر احتجاج کے دوران مبینہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم، ان الزامات کا حتمی فیصلہ ٹریبونل کی جانب سے آج سنائے جانے والے فیصلے میں سامنے آئے گا۔ شیخ حسینہ اور عوامی لیگ کے رہنماؤں کے خلاف جاری عدالتی کارروائی بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی صورتحال میں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے، جبکہ ان مقدمات کو لے کر ملک میں سیاسی بحث بھی جاری ہے۔







