کرناٹک میں عمر خالد پر بنائی گئی ایک دستاویزی فلم کی ممکنہ نمائش کو لے کر سیاسی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ عمر خالد اس وقت دہلی فسادات کی مبینہ سازش اور یو اے پی اے (UAPA) کے تحت درج مقدمے کے سلسلے میں جیل میں ہیں۔ اسی دوران کرناٹک کانگریس کے سینئر رہنما بی کے ہری پرساد نے بنگلورو میں عمر خالد کا دفاع کرتے ہوئے انہیں ’’قوم پرست‘‘ قرار دیا ہے۔ بی کے ہری پرساد سے جب نیشنل لاء اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (NLSIU) میں عمر خالد پر مبنی دستاویزی فلم کی نمائش کے مطالبے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے طلبہ تنظیم اے بی وی پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمر خالد ایک قوم پرست ہیں اور اے بی وی پی کو ان کے بارے میں بات کرنے کا حق نہیں ہے۔ ہری پرساد نے اے بی وی پی کے مؤقف پر ناتھورام گوڈسے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ گوڈسے کو مانتے ہیں، انہیں اس معاملے پر بات کرنے کا اخلاقی جواز حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے گوڈسے کو ملک دشمن اور ملک کا پہلا دہشت گرد قرار دیا۔
اے بی وی پی نے مرکزی حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا
دوسری جانب آر ایس ایس سے وابستہ طلبہ تنظیم اے بی وی پی نے عمر خالد پر بنائی گئی ڈاکیومنٹری کی نمائش کے خلاف سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ تنظیم نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نیشنل لاء اسکول آف انڈیا یونیورسٹی کی انتظامیہ کے خلاف اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔
اے بی وی پی کی بنگلورو یونٹ کے مطابق اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی اور وزیر مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال کو خط بھیج کر مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔
ڈاکیومنٹری کی نمائش ملتوی
للت وچھانی کی ہدایت کاری میں بنائی گئی دستاویزی فلم ’Prisoner Number 626710 is Present‘ کی نمائش حال ہی میں منتظمین نے ملتوی کردی تھی۔ منتظمین کی جانب سے اس فیصلے کے لیے سکیورٹی اور انتظامی وجوہات کا حوالہ دیا گیا۔ تاہم، اے بی وی پی کا الزام ہے کہ نمائش ملتوی کرنے کا فیصلہ صرف عوامی مخالفت کو وقتی طور پر کم کرنے کی کوشش ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک ممتاز تعلیمی ادارے کو ایسے شخص پر مبنی سیاسی مواد کی نمائش کا پلیٹ فارم نہیں بننا چاہیے۔
اے بی وی پی نے عمر خالد پر 2016 کے جے این یو تنازع، افضل گرو سے متعلق واقعات، شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور این آر سی کے خلاف مظاہروں اور 2020 کے دہلی فسادات کے دوران مبینہ طور پر اشتعال انگیز سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ تاہم، یہ تنظیم کے الزامات ہیں۔ اے بی وی پی نے کہا کہ تعلیمی آزادی اور کھلی بحث جمہوری و آئینی اقدار کا حصہ ہیں، لیکن اس کے ساتھ قومی سلامتی، ملک کی خودمختاری اور تعلیمی اداروں کے وقار کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔عمر خالد کی ڈاکیومنٹری کو لے کر سامنے آنے والے اس تنازع نے ایک بار پھر ملک میں تعلیمی اداروں میں اظہارِ رائے کی آزادی، سیاسی مباحث اور قومی سلامتی سے متعلق حدود پر بحث چھیڑ دی ہے۔






