اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے کے ساتھ ساتھ رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اسی دوران آچاریہ پرمود کرشنم نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسد الدین اویسی پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔ پرمود کرشنم نے الزام لگایا کہ اویسی جس سیاسی نظریے کو آگے بڑھا رہے ہیں، وہ ان کے مطابق آزادی سے قبل مسلم لیگ کی سیاست سے مماثلت رکھتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اویسی کا مقصد ملک میں بتدریج شریعت نافذ کرنا اور آئین کی جگہ اسلامی قانون لانا ہے۔
تاہم یہ پرمود کرشنم کے سیاسی دعوے ہیں، جن کی اویسی کی جانب سے تائید نہیں کی گئی ہے۔کرشنم نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر ملک میں آبادی کا تناسب 50-50 ہوجائے تو اویسی جمہوریت کی بات کرنا چھوڑ دیں گے۔ ان بیانات کے بعد ایک بار پھر اتر پردیش کی سیاست میں مذہب اور سیاسی شناخت سے متعلق بحث تیز ہوگئی ہے۔ دوسری جانب اسد الدین اویسی نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو نشانہ بنایا ہے۔ شراوستی کے بھینگا علاقے میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ’فکسڈ میچ‘ ہونے کا الزام عائد کیا۔
اویسی نے دعویٰ کیا کہ یہی وجہ ہے کہ سماج وادی پارٹی مسلمانوں سے متعلق بعض مسائل پر خاموش رہتی ہے۔ انہوں نے مدارس، قبرستانوں اور مزارات کے خلاف مبینہ کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی سمیت دیگر سیکولر جماعتوں نے ان معاملات پر اپنی آنکھیں، کان اور منہ بند کر رکھے ہیں۔ انڈیا اتحاد میں AIMIM کو شامل کرنے کے حوالے سے سوال پر اویسی نے کہا کہ ان کی پارٹی محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال ہونے یا کسی جماعت کے ماتحت کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کے مطابق مسلمان اپنے سیاسی حقوق اور الگ سیاسی شناخت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اویسی نے دعویٰ کیا کہ شراوستی میں تقریباً 300 مدارس بند کیے گئے ہیں، جبکہ 18 مدارس اور 37 قبرستانوں و مزارات کو منہدم کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار اویسی کی جانب سے پیش کیے گئے دعوے ہیں۔ اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی، ایس پی، اے آئی ایم آئی ایم اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی سے واضح ہے کہ مذہب، ووٹر شناخت اور اقلیتی حقوق جیسے مسائل آئندہ انتخابی بحث میں اہم موضوع بن سکتے ہیں۔







