تلنگانہ بین الاقوامی سطح کے تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے اہم اقدامات
فیوچر سٹی میں ممتاز غیرملکی یونیورسٹیوں کے کیمپس کے قیام کامنصوبہ
تلنگانہ حکومت کے چیف سکریٹری سنجے جاجو کے احکامات
بین الاقوامی معیار پر تعلیم،تحقیق اور ہنرمندی کے مواقع یقینی بنانےکے اقدام
'ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ اسکولوں' کا چیف سکریٹری نے لیا جائزہ
ریاستی حکومت تلنگانہ میں بین الاقوامی سطح کے تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے کلیدی اقدامات کررہی ہے۔ چیف سکریٹری سنجے جاجو نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فیوچر سٹی میں معروف غیر ملکی یونیورسٹیوں کے کیمپس قائم کرنے کے لئے خصوصی پالیسی بنائیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ تلنگانہ کو بین الاقوامی تعلیمی مرکز بنانے کی سمت میں اقدامات کو تیز کیا جانا چاہئے۔
عہدیداروں نے چیف سکریٹری کو بتایا کہ چار دیگر بین الاقوامی یونیورسٹیاں بشمول لندن یونیورسٹی اور برمنگھم یونیورسٹی نے پہلے ہی فیوچر سٹی میں کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ سنجے جاجو نے تجویز پیش کی کہ پالیسی میں غیر ملکی یونیورسٹیوں کو مدعو کرنے، ضروری انفراسٹرکچر فراہم کرنے، سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے، اجازتوں کی سہولت فراہم کرنے اور تعلیمی پروگراموں کے انعقاد جیسے پہلوؤں کو شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے طلباء کو بین الاقوامی معیار کے ساتھ تعلیم، تحقیق اور ہنرمندی کی ترقی کے مواقع حاصل کرنے کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں۔
انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ مجوزہ یونیورسٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک واضح لائحہ عمل تیار کریں۔ انہوں نے تجویز دی کہ یہ منصوبہ آئندہ عالمی سربراہی اجلاس تک تیار ہو جانا چاہیے۔
اسی میٹنگ میں ریاست بھر میں بنائے جانے والے 'ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ اسکولس' کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکومت نے مرحلہ وار ریاست کے 119 اسمبلی حلقوں میں ان اسکولوں کو قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دسمبر 2027 تک 67 اسکولوں کو مکمل کرنے اور جون 2028 تک اس تعداد کو 87 تک بڑھانے کا ہدف ہے۔
ہر اسکول تقریباً 26 ایکڑ پر تعمیر کیا جائے گا۔ کھیلوں کے میدان، ہاسٹل، اسٹاف کوارٹرز، جدید کچن، اور ڈیجیٹل کلاس روم جیسی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ سی ایس نے حکم دیا کہ تعمیراتی کام کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور مقررہ مدت کے اندر معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے۔






