جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے ناراض لیڈر، اورسری نگر کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے سرینگر کی لوک سبھا نشست اور جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس دونوں سے استعفی دینے کا اعلان کیا۔انھوں نے اپنے والد آغا سید مہدی مصطفیٰ کی 26ویں برسی کے موقع پر باقاعدہ بڈگام کے بہشتِ زہراؑ پارک میں ایک بڑے اجتماع کے سامنے کیا۔ جہاں دور دراز علاقوں سے آئے ان کے ہزاروں حامی موجود تھے۔ آغا روح اللہ، جن کی عمر 48 سال ہے اور جو ایک معروف شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان ہیں، نے کہا کہ ان کا فیصلہ کسی ذاتی رنجش یا عہدہ نہ ملنے کی محرومی سے نہیں بلکہ اصولی اختلافات اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی عدم تکمیل کے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔
سر ی نگر کےرکن پارلیمنٹ نے پارٹی قیادت پر انتخابی وعدوں سے روگردانی کا الزام عائد کیا، خاص طور پر آئینِ ہند کے آرٹیکل 370 کی بحالی، بعض قیدیوں کی رہائی اور عوامی حقوق کے تحفظ جیسے معاملات پر مؤثر قدم نہ اٹھانے کا شکوہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ نام نہاد سیاسی سودے بازی کا حصہ نہیں ہوں گے اور نہ ہی کسی خفیہ مفاہمت میں شریک ہیں، بلکہ وہ جواب دہی اور اصول پسندی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق عوام نے اُن پر اعتماد کیا، اس لیے انہوں نے بھی عوام کے اعتماد کی لاج رکھتے ہوئے سب سے اونچے ایوان کی رکنیت چھوڑنے کا مشکل لیکن لازم فیصلہ کیا۔
بہشتِ زہراؑ پارک میں موجود شرکا میں ایک مقامی شخص نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں اس لیے جمع ہوئے کیونکہ آغا صاحب نے ہمیں بلایا تھا اور بتایا تھا کہ وہ اپنی زندگی کا بڑا فیصلہ عوام کے سامنے کریں گے۔ اس مقامی شخص نے کہا کہ قیادت میں فیصلہ ساز کی بصیرت عام لوگوں سے بلند ہوتی ہے، اس لیے ہم ان کے فیصلے کی درستی پر یقین رکھتے ہیں۔ اس نے دعویٰ کیا کہ آغا صاحب نے ہمارے لیے قربانی دی، لوک سبھا کی نشست چھوڑی اور ماہانہ 3 سے 3.5 لاکھ روپے کی تنخواہ کو ٹھکرا کر ایک بڑی مثال قائم کی، اس لیے ہم ان کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
آغا روح اللہ نے اپنی تقریر اور بعد ازاں گفتگو میں نیشنل کانفرنس کی قیادت، خصوصاً وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ پر کڑی تنقید کی۔ ان کے مطابق وہ ہندوتوا سیاست اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کے ایک کھلے ناقد ہیں، مگر پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں، طلبہ اور جیلوں میں قید نوجوانوں کے مسائل پر بار بار توجہ دلانے کے باوجود عملی اقدام نہیں کیا۔ ان کے مطابق دہائیوں تک ووٹ مانگنے کے لیے عوام کے سامنے رکھی جانے والی ٹوپی اور 200 یونٹ مفت بجلی جیسے وعدے فراموش کر دیے گئے اور اب توجہ کہیں اور منتقل ہو چکی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جب نوجوانوں کی قید کے معاملے کو مرکزی حکومت کے سامنے اٹھانا چاہیے تھا تو اس کی جگہ ذاتی کام نمٹانے کے لیے مرکزی وزیرِ داخلہ سے ملاقات کی گئی، حتیٰ کہ مشیر کی فائل کی منظوری جیسے امور کو ترجیح دی گئی۔ آغا روح اللہ نے عمر عبداللہ کو مخاطب کرتے ہوئے سخت لب و لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ کشمیری قوم نہیں بلکہ آپ کا رویہ ناقابلِ دفاع ہے؛ اسی بنیاد پر ان کے مطابق آپ نے عوام کو بھی دھوکا دیا، مجھے بھی، اور اپنے سیاسی ساتھیوں کو بھی۔
اپنے اختلافات کی وجوہات بتاتے ہوئے آغا روح اللہ نے دہرایا کہ ان کی لڑائی سیاسی اصولوں اور عوامی وعدوں کی پاسداری کے لیے ہے۔ آرٹیکل 370 کی بحالی، دستوری و آئینی حقوق کا تحفظ، ریزرویشن کے مسئلے کا منصفانہ حل اور قیدیوں کی رہائی ان کے مرکزی مطالبات رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ کسی اور پارٹی میں شامل ہونے نہیں جا رہے بلکہ جموں و کشمیر کے راست باز اور باصلاحیت نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر سماج میں مثبت تبدیلی اور عوامی بہبود کے لیے منظم کرنا چاہتے ہیں۔






