Tuesday, September 29, 2026 | 15 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • یوپی انتخابات سے پہلے (اے آئی ایم آئی ایم ) اور ایس پی میں سیاسی کشیدگی

یوپی انتخابات سے پہلے (اے آئی ایم آئی ایم ) اور ایس پی میں سیاسی کشیدگی

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 28 Sept 2026

یوپی انتخابات سے پہلے (اے آئی ایم آئی ایم ) اور ایس پی میں سیاسی کشیدگی
اترپردیش اسمبلی انتخابات 2027 سے قبل سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے لگی ہیں اور مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد اور نشستوں کو لے کر بیان بازی بھی بڑھ رہی ہے۔ اسی سلسلے میں اسد الدین اویسی کی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) اور سماج وادی پارٹی کے درمیان سیاسی اختلافات ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔ AIMIM کے قومی ترجمان شاداب چوہان نے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور ان کے ’PDA‘ فارمولے پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اکھلیش یادو نے مسلمانوں کو نظر انداز کیا اور ان کے مسائل پر مؤثر آواز نہیں اٹھائی۔
 
شاداب چوہان نے کہا کہ اکھلیش یادو کبھی کبھار مسلمانوں کی حمایت ظاہر کرنے کے لیے ٹوپی پہن لیتے ہیں، لیکن ان کے مطابق یہ محض علامتی سیاست ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران مسلم برادری کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور مذہبی مقامات سے متعلق بھی تنازعات سامنے آئے، لیکن سماج وادی پارٹی کے مسلم ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی نے ان معاملات پر وہ آواز نہیں اٹھائی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ AIMIM ترجمان نے کہا کہ مسلم برادری اب سیاسی عمل میں زیادہ مؤثر نمائندگی اور اقتدار میں حصہ داری چاہتی ہے۔ ان کے مطابق مسلمان کسی بھی سیاسی جماعت کے ’سیاسی غلام‘ بن کر نہیں رہنا چاہتے۔ انہوں نے ایس پی اور بی جے پی دونوں پر الزام لگایا کہ وہ مسلم برادری کو سیاسی طور پر حاشیے پر رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم یہ دونوں جماعتوں کے خلاف AIMIM رہنما کا سیاسی مؤقف ہے۔
 
شاداب چوہان نے کہا کہ AIMIM اتحاد کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے باہمی احترام اور سیاسی حصہ داری ضروری ہے۔ انہوں نے اکھلیش یادو کے PDA فارمولے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس میں ’A‘ کا مطلب اویسی نہیں ہے تو ایسا اتحاد ان کی نظر میں محض دھوکے کا اتحاد ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں مسلمان اب ایک سیاسی تحریک کے لیے تیار ہیں اور اسد الدین اویسی کو اپنا رہنما تسلیم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اپوزیشن واقعی بی جے پی کو شکست دینا چاہتی ہے تو اسے ووٹوں کی تقسیم روکنے اور متحد ہو کر انتخابات لڑنے پر غور کرنا ہوگا۔
 
شاداب چوہان نے کہا کہ اسد الدین اویسی پہلے ہی متحدہ محاذ کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو سیاسی جماعتیں 2017، 2019 اور 2024 میں بی جے پی کو شکست نہیں دے سکیں، وہ 2027 میں تنہا ایسا کرنے میں کیسے کامیاب ہوں گی۔ AIMIM رہنما کے اس بیان سے واضح ہے کہ پارٹی آئندہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں اتحاد کی صورت میں اپنی سیاسی نمائندگی اور حصہ داری کو اہم شرط کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ تاہم ایس پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے، یہ آئندہ سیاسی مذاکرات میں اہم ہوگا۔