28 اکتوبر کو ساحل سے ٹکرانے کا امکان
تیز ہواؤں اور موسلادھار بارش کی پیش گوئی
ہزاروں ماہی گیری کی کشتیوں کو سمندر میں جانے سے روک دیا گیا
آندھرا پردیش میں سمندری طوفان ارنب کے پیش نظر حکومت نے احتیاطی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق طوفان کے 28 اکتوبر کو ریاست کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ اس کے پیش نظر ساحلی اضلاع میں الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ منگل کی سہ پہر سے کئی علاقوں میں موسلادھار بارش اور تیز ہوائیں چلنے کی توقع ہے۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے باعث بجلی کے تار، کچے مکانات، کمزور پشتے اور سڑکیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ طوفان کے گزرنے تک غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور احتیاطی ہدایات پر عمل کریں۔
ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق، طوفان کے ممکنہ اثرات کرشنا اور باپٹلا اضلاع سے لے کر گوداوری خطے اور وشاکھاپٹنم تک ساحلی علاقوں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ تیز ہواؤں اور شدید بارش سے معمولاتِ زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو کی قیادت میں طوفان سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد کیے گئے ہیں۔ ان اجلاسوں میں متعلقہ محکموں کو اپنی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکے اور ضرورت پڑنے پر لوگوں کی مدد کی جا سکے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق، طوفان ارنب آج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اس کے بعد بدھ کی صبح آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
طوفان کی پیش گوئی کے بعد پڑوسی ریاست تمل ناڈو میں بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ریاست کے کچھ علاقوں میں ہفتے سے ہی موسلادھار بارش ہو رہی ہے، جس کے باعث ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ تمل ناڈو کے ساحلی علاقوں میں بڑی تعداد میں ماہی گیر رہتے ہیں، جن کی روزی روٹی کا انحصار سمندر میں مچھلی پکڑنے پر ہے۔ خراب موسم اور طوفان کی وارننگ کے بعد تھوتھکوڈی اور پامبن میں ہزاروں ماہی گیری کی کشتیوں کو سمندر میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔
طوفان کی وارننگ سے ماہی گیروں کی آمدنی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہی گیروں نے طوفان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا روزگار سمندر سے جڑا ہوا ہے، اس لیے خراب موسم کے دوران ماہی گیری بند ہونے سے ان کی روزانہ کی کمائی رک جاتی ہے۔ دوسری جانب، طوفان کی وارننگ نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان میں ایسے مزدور شامل ہیں جنہیں روزگار کے لیے پڑوسی ریاستوں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ خراب موسم کے باعث ان کے سفر اور کام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی تازہ صورت حال پر نظر رکھیں، ساحلی علاقوں میں احتیاط برتیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔






