جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے مجوزہ احتجاج سے قبل عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ اس احتجاج میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں جنتر منتر پہنچیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیجریوال نے الزام لگایا کہ ملک میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے دوران بڑے پیمانے پر ووٹ خارج کیے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے بقول جعلی ووٹ بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر تنقید کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ کیجریوال نے کہا کہ یہ معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت یا فرد تک محدود نہیں، بلکہ ملک کی جمہوریت سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوری حقوق اور انتخابی عمل سے متعلق اپنے خدشات کے اظہار کے لیے احتجاج میں حصہ لیں۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ وہ خود جنتر منتر جائیں گے اور ان کا پورا خاندان بھی احتجاج میں شریک ہوگا۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بھی بڑی تعداد میں وہاں پہنچیں۔ ان کے بیان کے مطابق، ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی، یعنی ایس آئی آر کے معاملے پر عوامی سطح پر آواز اٹھانا ضروری ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اس عمل کے دوران ووٹروں کے نام خارج کیے جانے پر اعتراضات اٹھاتی رہی ہیں، جبکہ انتخابی عمل سے متعلق الزامات کی جانچ حقائق اور متعلقہ ریکارڈ کی بنیاد پر کی جانی چاہیے۔ قابلِ ذکر ہے کہ CJP نے 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس احتجاج کی قیادت ابھیجیت دیپکے، آشوتوش رانکا اور سوربھ داس کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا اہم مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ ہے۔
احتجاج کے پیشِ نظر دہلی میں سیکیورٹی انتظامات سخت کیے جانے کی اطلاع ہے۔ مختلف ریاستوں سے سیکیورٹی اہلکاروں کو طلب کرنے اور مرکزی مسلح پولیس فورسز (CAPF) کی تعیناتی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ٹرینوں اور میٹرو خدمات میں ممکنہ یا اعلان کردہ تبدیلیوں سے متعلق تفصیلات کی سرکاری ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔دوسری جانب، فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس نے کہا ہے کہ CJP کو احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی۔ پولیس نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ احتجاج میں شامل ہونے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اب اس معاملے میں توجہ اس بات پر ہے کہ احتجاج کے دوران کیا صورتِ حال سامنے آتی ہے اور ووٹر لسٹوں سے متعلق الزامات پر متعلقہ حکام کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔







