Friday, October 09, 2026 | 26 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • اپوزیشن کی صدر جمہوریہ سے شکایت، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ

اپوزیشن کی صدر جمہوریہ سے شکایت، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 09 Oct 2026

اپوزیشن کی صدر جمہوریہ سے شکایت، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ
اپوزیشن نے سی ای سی گیانیش کمار کےاستعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے
راہل گاندھی کی پارلیمنٹ سے راشٹرپتی بھون تک بڑی ریلی
صدر  جمہوریہ سے 13 کروڑ ووٹ بحال کرنے کی درخواست
 
مرکزی الیکشن کمیشن (EC) کے کام کاج کو لے کر اپوزیشن پارٹیوں نے اپنی لڑائی تیز کر دی ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جمعہ کو پارلیمنٹ سے راشٹرپتی بھون تک ایک بڑی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔نئی دہلی میں انڈیا بلاک کے ارکانِ پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی کے خلاف صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ سے راشٹرپتی بھون کی جانب مارچ کیا۔ بعد میں، ایک 10 رکنی وفد نے صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کی اور انہیں ایک میمورنڈم پیش کیا۔ اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار  سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹوں کی ایس آئی آر میں بے ضابطگیوں کی گئی ہیں ۔ مارچ کے دوران پرینکا گاندھی واڈرہ، ڈی کے شیوکمار، کے سی وینوگوپال، مہوا موئترا ،اور گورو گوگوئی سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے وجے چوک پر دھرنا بھی دیا۔
 
اپوزیشن جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ ان کا بنیادی مطالبہ سی ای سی گیانیش کمار کا استعفیٰ ہے۔ اس کے ساتھ، انہوں نے صدر  جمہوریہ سے کہا ہے کہ وہ متنازعہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل کو فوری طور پر منسوخ کریں اور 13 کروڑ ووٹروں کے ناموں کو بحال کریں جنہیں ڈرافٹ لسٹوں سے غیر منصفانہ طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے 16 جماعتوں کے رہنماؤں کے دستخطوں والا میمورنڈم انہیں سونپا گیا۔
 
ریلی کے دوران اپوزیشن لیڈروں نے کرتاویہ پاتھ پر بیٹھ کر احتجاج کیا۔ انہوں نے 'ووٹ چوری' اور EC-BJP کی ملی بھگت کا الزام لگاتے ہوئے نعرے لگائے۔ انہوں نے پلے کارڈز آویزاں کیے جیسے "گیانیش، ہو گیا بھائی!" 
 
اس موقع پر کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہا، "گیانیش کمار کے فیصلوں کی وجہ سے ملک میں بدامنی کا ماحول ہے، جمہوریت خطرے میں ہے، اسی لیے ہم صدر سے ملاقات کر رہے ہیں اور حقائق بیان کر رہے ہیں"۔ آر جے ڈی ایم پی منوج جھا نے گیانیش کمار پر تنقید کی کہ وہ ملک میں موجودہ بدعنوان نظام کے لیے ڈھال کی طرح کھڑے ہیں۔
 
دوسری طرف، 'کاکروچ جنتا پارٹی'، جس نے پیپر لیک کے خلاف جدوجہد کی اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا سبب بنی، نے ہفتہ کو جنتر منتر پر احتجاج کی کال دی ہے۔ حکومت کو چوکنا کردیا گیا۔ جنتر منتر کے ارد گرد 4 کلومیٹر کے دائرے میں ہزاروں پولیس کو تعینات کیا گیا تھا اور انٹرنیٹ خدمات کو جمعہ کی رات سے 24 گھنٹے کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔
 
بی جے پی کے قومی صدر نتین  نبن نے اپوزیشن کے خدشات پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے مسلسل شکستوں کو ہضم نہ کرنے کے لیے آئینی اداروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے لیے انڈیا الائنس پر تنقید کی۔ انہوں نے 'X' پر کہا، "حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج وزیر اعظم مودی کی قیادت پر لوگوں کے اعتماد کا ثبوت ہیں۔ خود پر غور کیے بغیر الزامات لگانا ان کی سیاسی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔"