ریاستہائے متحدہ کی حکومت نے دنیا کی کچھ اعلی ٹیک کمپنیوں کو ایک ایسے پروگرام سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو انہیں مستقل رہائش کے لئے ہنر مند غیرملکی کارکنوں کو اسپانسر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ یہ کاروائی امریکی کارکنوں کی قیمت پر کم تنخواہ والے غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے کے نظام کا غلط استعمال کرنے والی کمپنیوں کا ردعمل ہے۔یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ امیگریشن پر پابندی لگانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے – قانونی اور غیر دستاویزی دونوں – اور تارکین وطن کے لیے رہائش یا شہریت حاصل کرنا مشکل بنا دیتا ہے۔
ویزا پروگراموں کے مبینہ غلط استعمال پر بڑا فیصلہ
امریکی انتظامیہ نے ویزا پروگراموں کے مبینہ غلط استعمال پر ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے مائیکروسافٹ، ایڈوب اور کئی بڑی بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کو ایچ ون بی (H-1B) ویزا پروگرام سے عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ محنت اور نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے جاری کردہ بیانات کے مطابق، یہ اقدام امریکی شہریوں کے روزگار کے تحفظ اور گرین کارڈ و ویزا قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
معطلی کی زد میں آنے والی بڑی کمپنیاں
امریکی حکومت کی اس کارروائی سے ٹیک انڈسٹری کے بڑے نام متاثر ہوئے ہیں، جن میں درج ذیل کمپنیاں شامل ہیں:
• مائیکروسافٹ (Microsoft) اور ایڈوب (Adobe)
• ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS)
• انفوسس (Infosys) اور وپرو (Wipro)
• کاگنیزنٹ (Cognizant)
• ایچ سی ایل (HCL) اور کیپجیمنی (Capgemini)
ویزا فیس میں بھاری اضافہ اور نئے قوانین
معطلی کے ساتھ ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بعض مخصوص نئے ایچ ون بی ویزا درخواست گزاروں پر ایک لاکھ ڈالر ($100,000) فیس عائد کرنے کی پابندی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کمپنیوں نے مقامی امریکی ہنر مندوں کے بجائے غیر ملکی ملازمین کو ترجیح دے کر ویزا سسٹم کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔
• وجوہات: امریکی انتظامیہ (نائب صدر جے ڈی وینس اور محکمہ محنت) کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں نے گرین کارڈ اور ویزا پروگراموں کا غلط استعمال کیا ہے اور امریکی شہریوں کے روزگار کے مواقع متاثر کیے ہیں۔
• متاثرہ کمپنیاں: مائیکروسافٹ، ایڈوب، ٹاٹا (TCS)، وپرو (Wipro)، انفوسس (Infosys)، کاگنیزنٹ (Cognizant)، ایچ سی ایل (HCL) اور کیپجیمنی (Capgemini)۔
• فیس میں اضافہ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعض نئے ایچ ون بی ویزا درخواست گزاروں پر ایک لاکھ ڈالر فیس کی پابندی کو مزید ایک سال کے لیے بڑھا دیا ہے۔
• انڈین ردعمل: ہندوستان نے امریکی حکام کے بیانات اور ان فیصلوں پر شدید اعتراض اور مذمت کی ہے۔
• اسٹاک مارکیٹ: اس فیصلے کے بعد بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں شدید گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
بھارت کا شدید ردعمل اور معاشی اثرات
اس فیصلے کے منظرِ عام پر آتے ہی بھارتی حکومت اور کاروباری حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ نئی دہلی نے امریکی حکام کے بیانات پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ اس سنسنی خیز فیصلے کے فوری بعد بھارتی اسٹاک مارکیٹ (Share Market) میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی ہے، اور ٹیک کمپنیوں کے شیئرز بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے عالمی ٹیک سیکٹر اور بالخصوص بھارت کی آئی ٹی انڈسٹری کو اربوں ڈالر کا دھچکا لگ سکتا ہے۔






