Friday, October 09, 2026 | 26 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • بچوں کی ویکسینیشن: حقائق اور غلط فہمیاں

بچوں کی ویکسینیشن: حقائق اور غلط فہمیاں

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 09 Oct 2026

 بچوں کی ویکسینیشن: حقائق اور غلط فہمیاں
 بچوں کو مختلف متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسینیشن انتہائی اہم ہے، لیکن اس کے باوجود بہت سے والدین کے ذہنوں میں ویکسین کے تعلق سے کئی سوالات اور غلط فہمیاں موجود ہیں۔ بعض والدین ویکسین کے مضر اثرات کے خوف سے بچوں کو ٹیکے لگوانے میں تاخیر کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مصدقہ معلومات سے متاثر ہو کر ویکسینیشن سے گریز کرتے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ درست معلومات اور بروقت ویکسینیشن بچوں کو کئی خطرناک بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
 
منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ میں بچوں کی ویکسینیشن کے موضوع “Vaccination in Children: Facts and Myths” پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر انیکیت انیل پراشر، کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن اینڈ پیڈیاٹرک انٹینسیوسٹ، ایم ڈی پیڈیاٹرکس اور پوسٹ ڈاکٹورل فیلو پیڈیاٹرک انٹینسیو کیئر، رینبو ہاسپٹلس، حمایت نگر، حیدرآباد نے بچوں کی صحت کے لیے ویکسین کی اہمیت اور اس سے متعلق عام غلط فہمیوں پر گفتگو کی۔
 
ویکسینیشن کا بنیادی مقصد بچوں کے مدافعتی نظام کو مخصوص بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ پولیو، خسرہ، روبیلا، کالی کھانسی، تشنج اور ہیپاٹائٹس بی جیسی بیماریوں سے بچاؤ میں ویکسین اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بعض بیماریاں بچوں میں سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں، اس لیے مقررہ وقت پر ویکسین لگوانا ضروری ہے۔
 
ویکسین سے متعلق ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ صحت مند نظر آنے والے بچے کو ویکسین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ویکسین بیماری سے بچاؤ کے لیے دی جاتی ہے، اس لیے بچے کے بظاہر صحت مند ہونے کے باوجود مقررہ ٹیکے لگوانا ضروری ہے۔ اسی طرح یہ خیال بھی درست نہیں کہ ایک بار ویکسین لگوانے کے بعد تمام بیماریوں سے تاحیات تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔ بعض ویکسین کی اضافی خوراکیں یا بوسٹر ڈوز مقررہ عمر میں ضروری ہوتی ہیں۔
 
ویکسین لگنے کے بعد بچے کو ہلکا بخار، انجکشن کی جگہ درد یا سوجن جیسی معمولی علامات ہوسکتی ہیں۔ یہ اثرات عموماً عارضی ہوتے ہیں اور خود ہی بہتر ہو جاتے ہیں۔ تاہم، شدید الرجی جیسا ردعمل بہت کم ہوتا ہے۔ اگر بچے کو سانس لینے میں دشواری، چہرے یا گلے میں سوجن یا کوئی غیر معمولی شدید علامت ظاہر ہو تو فوری طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔
 
والدین کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں پر آنکھ بند کرکے یقین کرنے کے بجائے بچوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ اگر کسی وجہ سے بچے کی ویکسین چھوٹ گئی ہو تو پورا ویکسینیشن پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت عموماً نہیں پڑتی؛ ڈاکٹر کی رہنمائی میں باقی خوراکیں مکمل کی جاسکتی ہیں۔
 
بچوں کی ویکسینیشن کے سلسلے میں والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ویکسینیشن کارڈ محفوظ رکھیں، مقررہ تاریخوں پر ٹیکے لگوائیں اور کسی بھی شبہے کی صورت میں مستند طبی مشورہ حاصل کریں۔ بروقت ویکسینیشن نہ صرف بچوں کو بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتی ہے بلکہ معاشرے میں متعدی امراض کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
 
قارئین آپ ڈاکٹر انیکیت انیل پراشر، کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن، رینبو ہاسپٹلس، حمایت نگر، حیدرآباد ،کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔