آسام پولیس نے اتوار کے روز کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے رہنما آشوتوش رانکا اور پارٹی کے دیگر ارکان کو حراست میں لے لیا۔ بعد میں رہائی کے بعد رانکا نے پولیس پر انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کا الزام عائد کیا۔ CJP کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی رانکا کی رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل ظاہر کیا۔ آشوتوش رانکا گزشتہ دنوں آسام میں سرکاری اسکولوں کی صورتحال اور ووٹر لسٹوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سے متعلق مسائل پر مہم چلا رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ CJP کی ٹیم ریاست کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے اسکولوں کی صورتحال کا جائزہ لے گی اور SIR سے متاثرہ خاندانوں اور مقامی کارکنوں سے ملاقات کرے گی۔
رہائی کے بعد آشوتوش رانکا نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ آسام پولیس کی جانب سے کی گئی حراست ختم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اسی مقام پر واپس چھوڑا جائے جہاں سے انہیں حراست میں لیا گیا تھا۔ رانکا نے مزید کہا کہ وہ سیکریٹریٹ کے سامنے چودھری ٹیلہ کے مقام پر میڈیا سے خطاب کریں گے۔ ان کے مطابق یہی وہ جگہ تھی جہاں سے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ CJP کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی رانکا کی رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر پیغام شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پولیس اسٹیشن کے باہر ہونے والے احتجاج میں رانکا کے ساتھ شامل ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔
آشوتوش رانکا نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما پر بھی کئی الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر CJP کی ٹیم سرکاری اسکولوں کی زمینی صورتحال سامنے لے آئی تو ملک بھر میں ریاست کے تعلیمی نظام کی حالت پر بحث شروع ہوسکتی ہے۔ رانکا نے کازی رنگا سے متعلق معاملات پر بھی حکومت سے سوالات کیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وہاں مقامی لوگوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں اور زمین، جنگلات اور آبی وسائل سے متعلق معاملات میں کارپوریٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔







