عتیق احمد کے بیٹے علی احمد کو پیر کے روز تقریباً تین سال پرانے بھتہ خوری کے ایک مقدمے میں پریاگ راج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سخت سکیورٹی کے درمیان علی احمد نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور تقریباً دو گھنٹے تک کمرہ عدالت میں موجود رہے۔ سماعت مکمل ہونے کے بعد پولیس اہلکاروں نے علی احمد کو اپنے حصار میں لیا اور انہیں عدالت سے باہر نکالا۔ میڈیا کے نمائندوں نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔ علی احمد کو فوری طور پر پولیس وین میں بٹھایا گیا اور وین کے پردے گرا دیے گئے۔ اس کے بعد پولیس کی بھاری سکیورٹی میں انہیں جھانسی جیل منتقل کیا گیا۔ بتایا گیا کہ تقریباً 35 پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں تین گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ علی احمد کو پریاگ راج سے روانہ کیا گیا۔ اسی مقدمے میں سعد کالیا کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ وہ اس وقت کاس گنج جیل میں قید ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران سکیورٹی کے پیش نظر عدالت کے اطراف بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
علی احمد کی پیشی کی اطلاع ملنے کے بعد ان کے حامیوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر جمع ہو گئی۔ ہجوم کے باعث وہاں کچھ دیر کے لیے ہاتھا پائی اور دھکم پیل کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ پولیس نے موقع پر موجود لوگوں کو قابو میں کیا اور علی احمد کو بحفاظت وہاں سے نکال کر روانہ کر دیا۔ علی احمد کو پریاگ راج لاتے وقت ان کے بھائی احزم بھی ایک گاڑی میں پولیس قافلے کے پیچھے آ رہے تھے۔ پولیس کو اس کی اطلاع ملنے کے بعد کوشامبی میں ان کی گاڑی روک کر تلاشی لی گئی۔ پوچھ گچھ کے دوران احزم نے بتایا کہ وہ اس لیے قافلے کے پیچھے آ رہے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ علی احمد کو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے انہیں قافلے کے ساتھ مزید آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔
یہ مقدمہ سال 2023 میں پریاگ راج کے ایک کسان افضل کی شکایت پر کریلی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں علی احمد اور دیگر افراد پر زمین کے تنازعے سے متعلق 30 لاکھ روپے بھتہ مانگنے، مبینہ طور پر مارپیٹ کرنے اور زبردستی خالی اسٹامپ پیپرز پر دستخط کروانے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کی تھیں۔ علی احمد 2022 میں پریاگ راج کی عدالت میں خود کو قانون کے حوالے کرنے کے بعد سے حراست میں ہیں۔ بعد میں 2025 میں ان کے بیرک سے نقد رقم برآمد ہونے کی اطلاع کے بعد انہیں جھانسی جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔تازہ پیشی کے دوران عدالت میں ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پولیس نے سخت سکیورٹی کے درمیان انہیں دوبارہ جھانسی جیل منتقل کر دیا۔






